Friday, September 18, 2026
FB
تازہ ترین

فیول ریلیف اسکیم، پٹرول پمپس کے مسائل حل کرنے کا فیصلہ

وزیراعظم کی فیول ریلیف اسکیم کے آغاز کے بعد بعض پٹرول پمپس پر ڈیجیٹل ٹوکن اور ادائیگی کے طریقہ کار سے متعلق مشکلات سامنے آئیں۔ حکومت نے پٹرولیم ڈیلرز کے ساتھ رابطہ کرکے مسائل دور کرنے اور صارفین کو ریلیف کی فراہمی آسان بنانے کے اقدامات کیے ہیں۔

فیول ریلیف اسکیم، پٹرول پمپس کے مسائل حل کرنے کا فیصلہ

فیول ریلیف اسکیم پر عملدرآمد میں مشکلات

وزیراعظم کی فیول ریلیف اسکیم کے ملک گیر آغاز کے بعد بعض پٹرول پمپس پر صارفین کو ریلیف حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اطلاعات کے مطابق کچھ پٹرول اسٹیشنز پر ڈیجیٹل نظام اور ٹوکن کی تصدیق سے متعلق مسائل سامنے آئے، جبکہ پٹرولیم ڈیلرز نے سبسڈی کی رقم کی واپسی کے طریقہ کار پر بھی وضاحت طلب کی تھی۔

حکومت نے ان مسائل کا نوٹس لیتے ہوئے پٹرولیم ڈیلرز اور متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطہ بڑھا دیا ہے تاکہ اسکیم کے تحت اہل صارفین کو ایندھن کی رعایتی سہولت میں غیرضروری رکاوٹ پیش نہ آئے۔

پٹرولیم ڈیلرز کے ساتھ اہم اجلاس

وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کی زیر صدارت پٹرولیم ڈیلرز اور پمپ ایسوسی ایشنز کے نمائندوں کا اجلاس ہوا، جس میں اسکیم کے عملی نفاذ اور پٹرول پمپس کو ادائیگیوں سمیت مختلف معاملات کا جائزہ لیا گیا۔

سرکاری ریڈیو کے مطابق اجلاس میں ڈیلرز نے اسکیم پر مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ حکام کی جانب سے اسکیم کے طریقہ کار اور متعلقہ امور پر بھی بریفنگ دی گئی۔

حکومت کے مطابق اسکیم کے لیے تین ماہ کے فنڈز مختص کیے گئے ہیں، جبکہ پہلے ماہ کے لیے 25 ارب روپے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اسٹیٹ بینک نے بھی اسکیم کے تحت پٹرول پمپس کے دعووں کی بروقت ادائیگی کے لیے اقدامات کی یقین دہانی کرائی ہے۔

شکایات کے ازالے کے لیے خصوصی نظام

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت قومی اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس میں اسکیم کے ملک گیر نفاذ کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں رجسٹریشن، ٹوکن کے استعمال اور پٹرول اسٹیشنز کو ادائیگیوں سے متعلق پیش رفت دیکھی گئی۔

سرکاری معلومات کے مطابق صارفین اور پٹرول اسٹیشنز کی شکایات اور تکنیکی مسائل کے فوری حل کے لیے چوبیس گھنٹے کام کرنے والا خصوصی نظام قائم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

پٹرول پمپس کو اسکیم سے متعلق معاونت اور شکایات کے لیے خصوصی کنٹرول روم سے رابطے کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔ سرکاری ریڈیو کے مطابق اس مقصد کے لیے 9772 نمبر مختص کیا گیا ہے۔

اسکیم میں پٹرول پمپس کا کردار

فیول ریلیف اسکیم کے تحت اہل صارفین کو مخصوص مقدار میں پٹرول پر فی لیٹر 100 روپے کا ریلیف فراہم کیا جا رہا ہے۔ حکومت نے اسکیم کو ڈیجیٹل نظام کے ذریعے چلانے کا طریقہ اختیار کیا ہے تاکہ مستحق افراد تک سہولت پہنچائی جا سکے اور ادائیگیوں کا ریکارڈ برقرار رہے۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی نے اسکیم کے لیے 75 ارب روپے کی منظوری دی تھی۔ سرکاری تفصیلات کے مطابق موٹر سائیکل اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے صارفین کے لیے ہفتہ وار 500 روپے تک جبکہ 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے مقررہ حد کے مطابق ریلیف رکھا گیا ہے۔ اسکیم غیر تجارتی صارفین تک محدود ہے۔

صارفین کو کیا مشکلات پیش آئیں؟

اسکیم کے پہلے روز بعض پٹرول پمپس پر ڈیجیٹل ایپ اور ضروری نظام دستیاب نہ ہونے کی شکایات سامنے آئیں، جس کے باعث کچھ رجسٹرڈ صارفین کو رعایتی پٹرول حاصل کرنے میں دشواری ہوئی۔

دوسری جانب پٹرولیم ڈیلرز نے بھی یہ سوال اٹھایا تھا کہ صارفین کو دی جانے والی سبسڈی کی رقم پٹرول پمپس کو کس طریقہ کار کے تحت اور کتنے وقت میں واپس کی جائے گی۔ ڈیلرز کے مطابق واضح نظام نہ ہونے کی صورت میں ان کے لیے رعایتی قیمت پر ایندھن فراہم کرنا مالی دباؤ کا باعث بن سکتا تھا۔

حکومت اور ڈیلرز کے درمیان ہونے والی ملاقات میں انہی عملی معاملات پر بات کی گئی اور اسکیم کو بہتر انداز میں چلانے کے لیے رابطہ کاری بڑھانے پر زور دیا گیا۔

حکومت کا ریلیف کی فراہمی پر زور

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ درست ٹوکن رکھنے والے کسی شہری کو بلاوجہ واپس نہ کیا جائے اور ریلیف حقیقی مستحقین تک پہنچانے میں غیرضروری رکاوٹیں ختم کی جائیں۔

اس سے قبل حکومت نے رجسٹریشن کا عمل بھی آسان بنانے کا اعلان کیا تھا۔ سرکاری معلومات کے مطابق اہل صارفین مخصوص معلومات ایس ایم ایس کے ذریعے 9771 پر بھیج کر رجسٹریشن کر سکتے ہیں، جبکہ پٹرول لینے سے قبل ٹوکن حاصل کرنے کے لیے بھی ایس ایم ایس سہولت استعمال کی جاتی ہے۔

آئندہ مرحلے میں کیا ہوگا؟

حکومت کی جانب سے پٹرول پمپس، متعلقہ وزارتوں، اسٹیٹ بینک اور ڈیجیٹل نظام سے وابستہ اداروں کے درمیان رابطہ بہتر بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔

اسکیم کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ رجسٹرڈ صارفین کو ٹوکن کے اجرا، تصدیق اور ایندھن کی فراہمی میں کتنی آسانی ملتی ہے اور پٹرول پمپس کو سبسڈی کی رقم کی بروقت واپسی کس حد تک یقینی بنائی جاتی ہے۔

سرکاری سطح پر شکایات کے ازالے اور تکنیکی معاونت کا نظام قائم کیے جانے کے بعد حکومت کا کہنا ہے کہ عملی مشکلات کو فوری طور پر حل کیا جائے گا۔

نتیجہ

وزیراعظم کی فیول ریلیف اسکیم کے آغاز پر پٹرول پمپس اور صارفین کو درپیش بعض عملی مسائل سامنے آئے، تاہم حکومت نے ان کے حل کے لیے پٹرولیم ڈیلرز، متعلقہ اداروں اور اسٹیٹ بینک کے ساتھ رابطہ بڑھا دیا ہے۔ خصوصی شکایتی نظام اور پٹرول پمپس کے لیے معاونت کا انتظام بھی کیا گیا ہے تاکہ اہل صارفین کو ریلیف کے حصول میں غیرضروری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!