سیاستدان
سید فخر امام
سید فخر امام
پیدائش: 18 Dec 1942
Lahore, Punjab, Pakistan
تعارف
ابتدائی زندگی اور خاندانی پس منظر
سید فخر امام پاکستان کے ایسے سیاست دان ہیں جن کی عملی زندگی میں مقامی حکومت، پارلیمانی سیاست، قومی اسمبلی کی سربراہی، وفاقی وزارتیں، زرعی پالیسی اور کشمیر سے متعلق پارلیمانی ذمہ داریاں مختلف ادوار میں شامل رہی ہیں۔ وہ 18 دسمبر 1942 کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ضلع خانیوال کے علاقے قتِل پور سے بتایا جاتا ہے۔ ان کے والد سید امام شاہ علی گڑھ سے فارغ التحصیل تھے اور برطانوی دور میں فوج کے Recruiting Officer کے طور پر خدمات انجام دے چکے تھے۔ خاندان کا تعلق زمینداری سے بھی تھا، جس کی وجہ سے فخر امام کی ابتدائی زندگی دیہی اور زرعی معاشرے کے قریب گزری۔
ان کی ازدواجی زندگی بھی پاکستانی سیاست کے ایک معروف خاندان سے جڑی ہوئی ہے۔ ان کی اہلیہ سیدہ عابدہ حسین خود طویل عرصے تک قومی سیاست میں فعال رہیں، قومی اسمبلی کی رکن رہیں، وفاقی وزیر بنیں اور امریکہ میں پاکستان کی سفیر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ ان کی بیٹی سیدہ صغریٰ امام نے بھی بعد میں سیاست میں حصہ لیا اور پنجاب اسمبلی کی رکن رہیں۔ پنجاب اسمبلی کے سرکاری سوانحی ریکارڈ میں فخر امام کو صغریٰ امام کے والد اور قومی اسمبلی کے سابق رکن و اسپیکر کے طور پر درج کیا گیا ہے۔
تعلیم اور ابتدائی پیشہ ورانہ زندگی
سید فخر امام نے لاہور کے Aitchison College میں تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد انہوں نے Clifton College میں بھی تعلیم حاصل کی اور پھر University of California, Davis سے زراعت کے شعبے میں تعلیم حاصل کی۔ زراعت سے یہ تعلیمی وابستگی بعد میں ان کے سیاسی اور حکومتی کردار میں بھی نمایاں رہی، خصوصاً جب انہوں نے وفاقی سطح پر خوراک اور زراعت سے متعلق ذمہ داریاں سنبھالیں۔
تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے کچھ عرصہ سرکاری نظام کو اندر سے سمجھنے کے لیے Central Superior Services میں بھی کام کیا۔ 1968 سے 1969 تک ان کی یہ وابستگی رہی، تاہم انہوں نے مستقل طور پر بیوروکریسی کو اپنا پیشہ نہیں بنایا۔ اس کے بعد 1970 سے 1974 تک نجی شعبے میں کام کیا۔ ان کے ابتدائی تجربات میں انتظامی امور، کاروباری سرگرمیوں اور زرعی معاملات کا امتزاج نظر آتا ہے۔
کھیلوں سے وابستگی
سیاست میں نمایاں ہونے سے پہلے فخر امام نے کھیلوں کے انتظامی شعبے میں بھی ذمہ داریاں ادا کیں۔ 1975 میں وہ Board of Control for Cricket in Pakistan کے Honorary Secretary رہے۔ اس کے بعد 1976 سے 1977 تک Punjab Cricket Association کے چیئرمین کی حیثیت سے کام کیا۔ یہ تجربہ ان کی عوامی زندگی کے اس پہلو کو ظاہر کرتا ہے جس میں کھیلوں کے اداروں اور نوجوانوں سے متعلق سرگرمیاں بھی شامل تھیں۔
کھیلوں کے انتظام سے ان کی وابستگی بعد کے سیاسی دور میں بھی نظر آتی ہے، جہاں انہوں نے نوجوانوں اور تعلیمی اداروں میں کھیلوں کے فروغ سے متعلق ذمہ داریاں ادا کیں۔ اس مرحلے نے انہیں انتظامی اور عوامی اداروں کے کام کو سمجھنے کا عملی تجربہ فراہم کیا۔
مقامی حکومت سے قومی سیاست تک
فخر امام کی باقاعدہ سیاسی سرگرمی مقامی حکومت سے آگے بڑھی۔ 1980 میں وہ District Council Multan کے چیئرمین منتخب ہوئے۔ اس کے بعد 1981 میں انہیں وفاقی حکومت میں Local Government and Rural Development کا وزیر بنایا گیا۔ وہ Local Government Commission کے چیئرمین کے طور پر بھی خدمات انجام دیتے رہے۔
ان کے سیاسی کیریئر کا یہ دور ایک دلچسپ واقعے کی وجہ سے بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔ دسمبر 1983 میں مقامی ضلع کونسل کے انتخابات میں انہیں ایک ووٹ سے شکست ہوئی، جس کے بعد انہوں نے وفاقی وزارت سے استعفیٰ دے دیا۔ اس واقعے کا ذکر ان کی سیاسی سوانح سے متعلق متعدد دستیاب حوالوں میں ملتا ہے۔
1985 کا انتخاب اور قومی اسمبلی کی اسپیکرشپ
1985 کے غیر جماعتی عام انتخابات میں سید فخر امام قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ اس کے فوراً بعد وہ قومی سطح کی سیاست میں نمایاں ہوئے اور 22 مارچ 1985 کو قومی اسمبلی کے اسپیکر منتخب ہوگئے۔ قومی اسمبلی پاکستان کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق وہ 22 مارچ 1985 سے 26 مئی 1986 تک اسپیکر کے منصب پر فائز رہے۔
ان کی اسپیکرشپ کا دور پاکستان کی آئینی اور سیاسی تاریخ کے ایک حساس مرحلے سے وابستہ تھا۔ اس وقت ملک میں مارشل لا نافذ تھا اور پارلیمانی ادارے دوبارہ فعال ہونے کے مرحلے میں تھے۔ قومی اسمبلی کے ریکارڈ میں فخر امام کو ملک کے 11ویں اسپیکر کے طور پر درج کیا گیا ہے۔
مئی 1986 میں وہ اسپیکر کے عہدے سے ہٹا دیے گئے۔ اس کے بعد جون 1986 سے مئی 1988 تک انہوں نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کی حیثیت سے بھی ذمہ داری ادا کی۔ قومی اسمبلی کے سرکاری ریکارڈ میں ان کا بطور Leader of the Opposition دور 3 مئی 1987 سے 29 مئی 1988 تک بھی درج ہے، جبکہ اسپیکرشپ کی مدت 22 مارچ 1985 سے 26 مئی 1986 تک واضح طور پر دی گئی ہے۔
وفاقی سیاست اور مختلف وزارتیں
بعد کے برسوں میں فخر امام نے وفاقی حکومت میں مختلف ذمہ داریاں سنبھالیں۔ 1990 کی دہائی کے آغاز میں وہ وفاقی کابینہ کا حصہ بنے اور Parliamentary Affairs، Law اور Education جیسے اہم محکموں سے وابستہ رہے۔ ان ذمہ داریوں نے ان کے سیاسی کردار کو پارلیمانی امور سے آگے بڑھا کر قانون سازی اور تعلیم کے شعبوں تک پھیلا دیا۔
وہ مختلف ادوار میں قومی اسمبلی کے رکن بھی رہے۔ 1985 کے بعد 1990 کی دہائی میں دوبارہ قومی سیاست میں آئے اور بعد کے سالوں میں بھی پارلیمانی سرگرمیوں سے منسلک رہے۔ پنجاب اسمبلی کے سرکاری ریکارڈ میں بھی انہیں 1985-88، 1990-93 اور 1997-99 کے ادوار میں قومی اسمبلی کا رکن اور 1985-86 میں اسپیکر کے طور پر درج کیا گیا ہے۔
کشمیر سے متعلق پارلیمانی کردار
2019 میں سید فخر امام کو Parliamentary Special Committee on Kashmir کا چیئرمین مقرر کیا گیا۔ قومی اسمبلی کی سرکاری ویب سائٹ پر موجود Parliamentary Committee on Kashmir کے مواد میں ان کا نام چیئرمین کے طور پر درج ہے۔ اس منصب کے تحت کمیٹی کا کام کشمیر سے متعلق معاملات، انسانی حقوق کے مسائل اور بین الاقوامی سطح پر مسئلے کو اجاگر کرنے سے متعلق پارلیمانی سرگرمیوں کی نگرانی تھا۔
ان کے چیئرمین رہنے کے دوران کمیٹی نے مختلف ملکی اور بین الاقوامی وفود سے ملاقاتیں کیں۔ قومی اسمبلی کے تصویری ریکارڈ میں 2019 میں ان کی مختلف سفارتی و پارلیمانی ملاقاتوں کا ذکر موجود ہے، جن میں ASEAN سے متعلق ایک وفد اور چین کے سفیر سے ملاقات بھی شامل ہے۔
قومی اسمبلی میں واپسی
2018 کے عام انتخابات میں سید فخر امام دوبارہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ اس دور میں ان کی سیاسی وابستگی Pakistan Tehreek-e-Insaf سے رہی۔ قومی اسمبلی کے دستیاب پروفائل میں ان کی 15ویں اسمبلی کی رکنیت، NA-150 اور PTI سے وابستگی درج ہے۔
2019 سے 2020 تک کشمیر کمیٹی کی سربراہی کے بعد انہیں وفاقی کابینہ میں اہم ذمہ داری ملی۔ 7 اپریل 2020 کو انہوں نے Federal Minister for National Food Security and Research کے عہدے کا حلف اٹھایا۔ سرکاری ریڈیو پاکستان اور Associated Press of Pakistan دونوں نے اس تقرری اور حلف برداری کی تصدیق کی۔
وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق
بطور Federal Minister for National Food Security and Research ان کی وزارت کا دور پاکستان میں کورونا وبا، ٹڈی دل کے حملوں، گندم کی پیداوار، کپاس، بیج، پانی کے انتظام اور غذائی تحفظ جیسے معاملات کے ساتھ گزرا۔ وزارت کے سرکاری ریکارڈ میں ان کے پیغامات اور پالیسی بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے زرعی پیداوار بڑھانے، بہتر بیج، زرعی تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی پر زور دیا۔
2020 میں انہوں نے قومی اسمبلی میں خوراک کے معاملے میں خود کفالت اور زرعی شعبے کی بحالی کی ضرورت پر بات کی۔ اسی سال وزارت کے سرکاری پروگراموں میں گندم اور کپاس کی پیداوار، معیاری بیج اور زرعی تحقیق سے متعلق اقدامات زیر بحث رہے۔
ٹڈی دل کے بحران کے دوران بھی ان کی وزارت National Locust Control Centre، Plant Protection Department اور دیگر اداروں کے ساتھ کام کر رہی تھی۔ سرکاری بیانات کے مطابق اس عرصے میں ٹڈی دل کے حملوں سے فصلوں کو بچانے کے لیے فضائی اور زمینی کارروائیوں، ادویات اور دیگر وسائل پر توجہ دی گئی۔
زرعی پالیسی اور غذائی تحفظ
فخر امام کے زرعی پس منظر اور University of California, Davis میں Agriculture کی تعلیم نے انہیں وزارت قومی غذائی تحفظ کے دوران زرعی پالیسی پر خاص توجہ دینے کا موقع دیا۔ سرکاری دستاویزات میں ان کی جانب سے seed technology، mechanization، institutional development اور agricultural technology transfer کو زرعی معیشت کی بہتری کے اہم عناصر قرار دینے کا ذکر موجود ہے۔
2020 میں گندم کی پیداوار کے حوالے سے قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے سرکاری جواب میں ان کے دور وزارت کے دوران 2020 کی گندم پیداوار، ہدف اور کھپت کے اعداد و شمار بھی ریکارڈ ہوئے۔ حکومت نے اس وقت گندم کی دستیابی بہتر بنانے، درآمد اور آئندہ پیداوار میں اضافے کے لیے مختلف اقدامات کیے۔
2021 میں انہوں نے غذائی تحفظ کو قومی سطح کی ترجیح قرار دینے کے ساتھ زراعت، livestock، water management، storage اور farm mechanization جیسے موضوعات پر بھی سرکاری فورمز پر بات کی۔ وزارت کی 2020-21 Year Book میں بھی ان کے نام سے جاری پیغام میں زرعی شعبے کو خوراک، روزگار اور دیہی معیشت کے لیے اہم قرار دیا گیا۔
بعد کا سیاسی دور
اپریل 2022 میں وفاقی حکومت کی تبدیلی کے بعد ان کی وزارت ختم ہوگئی۔ ان کے سیاسی سفر میں اس سے پہلے بھی مختلف جماعتوں اور سیاسی پلیٹ فارموں کے ساتھ وابستگی کے ادوار رہے ہیں۔ اس لیے ان کی سیاسی زندگی کو کسی ایک جماعت تک محدود کرنے کے بجائے مختلف ادوار میں بدلتی سیاسی وابستگیوں اور ان کے زیرِ نگرانی سرکاری عہدوں کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔
ان کی طویل سیاسی زندگی میں مقامی حکومت سے وفاقی کابینہ، قومی اسمبلی کی اسپیکرشپ، قائد حزب اختلاف، کشمیر کمیٹی کی سربراہی اور قومی غذائی تحفظ کی وزارت تک مختلف ذمہ داریاں شامل رہی ہیں۔ قومی اسمبلی کے سرکاری ریکارڈ میں ان کی اسپیکرشپ کی مدت واضح طور پر درج ہے، جبکہ وزارت قومی غذائی تحفظ کے سرکاری ریکارڈ میں 2020-22 کے دوران ان کی سرگرمیاں دستاویزی شکل میں موجود ہیں۔
خاندانی اور سیاسی ورثہ
سید فخر امام کی خاندانی زندگی بھی پاکستان کی سیاست سے گہری وابستگی رکھتی ہے۔ ان کی اہلیہ سیدہ عابدہ حسین نے قومی اسمبلی کی رکنیت، وفاقی وزارت اور سفارتی ذمہ داریوں سمیت متعدد عہدوں پر کام کیا۔ ان کی بیٹی سیدہ صغریٰ امام بھی پنجاب اسمبلی کی رکن اور صوبائی وزیر رہیں۔ پنجاب اسمبلی کے سرکاری ریکارڈ میں اس خاندان کی سیاسی سرگرمیوں اور عہدوں کی تفصیلات موجود ہیں۔
ان کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ ان کا سیاسی سفر کئی دہائیوں پر محیط ہے اور اس میں پاکستان کے مختلف سیاسی و آئینی ادوار شامل ہیں۔ ان کا سب سے نمایاں پارلیمانی عہدہ قومی اسمبلی کی اسپیکرشپ تھا، جبکہ بعد کے برسوں میں زراعت اور غذائی تحفظ کے شعبے میں ان کی حکومتی ذمہ داریاں ان کے تعلیمی اور زرعی پس منظر سے بھی مطابقت رکھتی تھیں۔
مجموعی تاریخی اہمیت
پاکستانی پارلیمانی تاریخ میں سید فخر امام کا نام خاص طور پر 1985-86 کی قومی اسمبلی کی اسپیکرشپ کے حوالے سے درج ہے۔ اس کے علاوہ ان کی سیاسی زندگی میں مقامی حکومت، وفاقی وزارتیں، قائد حزب اختلاف، کشمیر کمیٹی کی سربراہی اور قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی وزارت جیسے مختلف مراحل شامل رہے۔ قومی اسمبلی کے سرکاری ریکارڈ میں ان کی اسپیکرشپ اور کشمیر کمیٹی سے متعلق کردار دستاویزی طور پر موجود ہیں، جبکہ وزارت قومی غذائی تحفظ کے سرکاری ریکارڈ میں 2020 سے 2022 کے دوران ان کے زرعی اور غذائی پالیسی سے متعلق کام کی تفصیلات ملتی ہیں۔
ان کی زندگی کا مطالعہ پاکستان کی پارلیمانی سیاست، مقامی حکومت کے ارتقا، زرعی پالیسی اور مختلف سیاسی ادوار کے درمیان تعلق کو سمجھنے کے لیے مفید ہے۔ ان کے طویل عوامی سفر میں سیاست کے ساتھ زراعت، کھیلوں اور انتظامی امور کے تجربات بھی شامل رہے، جس کی وجہ سے ان کی سوانح پاکستان کی سیاسی تاریخ کے کئی مختلف شعبوں سے جڑتی ہے۔
کارنامے
• 1980 میں District Council Multan کے چیئرمین منتخب ہوئے اور مقامی حکومت کے شعبے سے قومی سیاست میں نمایاں ہوئے۔
• 1981 میں Federal Minister for Local Government and Rural Development مقرر ہوئے اور Local Government Commission کی سربراہی بھی کی۔
• 1985 کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور 22 مارچ 1985 کو National Assembly کے اسپیکر منتخب ہوئے۔
• 1986 کے بعد قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کی حیثیت سے پارلیمانی کردار ادا کیا۔
• 1990 کی دہائی میں وفاقی کابینہ میں Parliamentary Affairs، Law اور Education سمیت مختلف ذمہ داریاں سنبھالیں۔
• 2019 میں Parliamentary Special Committee on Kashmir کے چیئرمین مقرر ہوئے اور پارلیمانی سطح پر کشمیر سے متعلق امور کی نگرانی کی۔
• 7 اپریل 2020 کو Federal Minister for National Food Security and Research کا حلف اٹھایا۔
• وزارت قومی غذائی تحفظ کے دوران گندم، کپاس، معیاری بیج، زرعی تحقیق، پانی کے انتظام اور ٹڈی دل سے متعلق حکومتی پالیسی و اقدامات میں کردار ادا کیا۔
• قومی سطح پر غذائی تحفظ، زرعی پیداوار اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کے موضوعات کو حکومتی پالیسی مباحث میں نمایاں کیا۔
• 1981 میں Federal Minister for Local Government and Rural Development مقرر ہوئے اور Local Government Commission کی سربراہی بھی کی۔
• 1985 کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور 22 مارچ 1985 کو National Assembly کے اسپیکر منتخب ہوئے۔
• 1986 کے بعد قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کی حیثیت سے پارلیمانی کردار ادا کیا۔
• 1990 کی دہائی میں وفاقی کابینہ میں Parliamentary Affairs، Law اور Education سمیت مختلف ذمہ داریاں سنبھالیں۔
• 2019 میں Parliamentary Special Committee on Kashmir کے چیئرمین مقرر ہوئے اور پارلیمانی سطح پر کشمیر سے متعلق امور کی نگرانی کی۔
• 7 اپریل 2020 کو Federal Minister for National Food Security and Research کا حلف اٹھایا۔
• وزارت قومی غذائی تحفظ کے دوران گندم، کپاس، معیاری بیج، زرعی تحقیق، پانی کے انتظام اور ٹڈی دل سے متعلق حکومتی پالیسی و اقدامات میں کردار ادا کیا۔
• قومی سطح پر غذائی تحفظ، زرعی پیداوار اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کے موضوعات کو حکومتی پالیسی مباحث میں نمایاں کیا۔
مشہور کام
• National Assembly of Pakistan کی اسپیکرشپ، 22 مارچ 1985 تا 26 مئی 1986۔
• District Council Multan کی چیئرمین شپ اور مقامی حکومت کے نظام میں کردار۔
• Federal Minister for Local Government and Rural Development کی حیثیت سے خدمات۔
• وفاقی سطح پر Parliamentary Affairs، Law اور Education کے شعبوں میں وزارتی ذمہ داریاں۔
• Parliamentary Special Committee on Kashmir کی چیئرمین شپ، 2019-2020۔
• Federal Minister for National Food Security and Research کی حیثیت سے زرعی اور غذائی تحفظ سے متعلق پالیسی سرگرمیاں، 2020-2022۔
• گندم، کپاس، معیاری بیج، زرعی ٹیکنالوجی، پانی کے انتظام اور غذائی خودکفالت سے متعلق قومی پالیسی مباحث میں کردار۔
• پاکستان میں کرکٹ کے انتظامی شعبے میں Board of Control for Cricket in Pakistan کے Honorary Secretary اور Punjab Cricket Association کے چیئرمین کے طور پر خدمات۔
• District Council Multan کی چیئرمین شپ اور مقامی حکومت کے نظام میں کردار۔
• Federal Minister for Local Government and Rural Development کی حیثیت سے خدمات۔
• وفاقی سطح پر Parliamentary Affairs، Law اور Education کے شعبوں میں وزارتی ذمہ داریاں۔
• Parliamentary Special Committee on Kashmir کی چیئرمین شپ، 2019-2020۔
• Federal Minister for National Food Security and Research کی حیثیت سے زرعی اور غذائی تحفظ سے متعلق پالیسی سرگرمیاں، 2020-2022۔
• گندم، کپاس، معیاری بیج، زرعی ٹیکنالوجی، پانی کے انتظام اور غذائی خودکفالت سے متعلق قومی پالیسی مباحث میں کردار۔
• پاکستان میں کرکٹ کے انتظامی شعبے میں Board of Control for Cricket in Pakistan کے Honorary Secretary اور Punjab Cricket Association کے چیئرمین کے طور پر خدمات۔
تاریخ پیدائش
18 Dec 1942
جائے پیدائش
Lahore, Punjab, Pakistan