سائنسدان
ڈاکٹر عبدالسلام
Dr. Abdus Salam
پیدائش: 29 Jan 1926
وفات: 21 Nov 1996
جھنگ، پنجاب، برطانوی ہندوستان (موجودہ پاکستان)
تعارف
ابتدائی زندگی
ڈاکٹر عبدالسلام پاکستان کے ممتاز نظریاتی طبیعیات دان اور 1979ء کے نوبیل انعام برائے طبیعیات کے شریک فاتح تھے۔ وہ 29 جنوری 1926ء کو جھنگ میں پیدا ہوئے، جو اس وقت برطانوی ہندوستان کا حصہ تھا۔ ان کے والد محکمہ تعلیم سے وابستہ تھے اور خاندان میں تعلیم اور علمی سرگرمیوں کی روایت موجود تھی۔ بچپن ہی سے عبدالسلام نے ریاضی میں غیر معمولی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔
تعلیم اور علمی سفر
عبدالسلام نے ابتدائی اور اعلیٰ تعلیم پنجاب کے تعلیمی اداروں سے حاصل کی۔ انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور میں تعلیم حاصل کی اور پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے کیا۔ 1946ء میں انہیں کیمبرج یونیورسٹی کے سینٹ جانز کالج میں تعلیم کے لیے وظیفہ ملا۔ وہاں انہوں نے ریاضی اور طبیعیات میں نمایاں کامیابی حاصل کی اور 1952ء میں نظریاتی طبیعیات میں پی ایچ ڈی مکمل کی۔ کیمبرج میں ان کی تحقیقی صلاحیتوں نے انہیں کم عمری ہی میں عالمی سائنسی حلقوں میں متعارف کرا دیا۔
پاکستان میں تدریسی خدمات
ڈاکٹر عبدالسلام 1951ء میں پاکستان واپس آئے اور گورنمنٹ کالج لاہور میں ریاضی تدریس سے وابستہ ہوئے۔ بعد ازاں پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ ریاضی کے سربراہ بھی رہے۔ ان کی خواہش تھی کہ پاکستان میں اعلیٰ درجے کی بنیادی سائنسی تحقیق کے لیے مضبوط تحقیقی ماحول قائم ہو، تاہم اس زمانے میں اس مقصد کے لیے محدود سہولیات کی وجہ سے وہ دوبارہ بیرونِ ملک علمی تحقیق کی طرف چلے گئے۔
نظریاتی طبیعیات میں تحقیق
عبدالسلام کی بنیادی علمی شناخت نظریاتی طبیعیات اور ذراتی طبیعیات سے وابستہ تھی۔ ان کی تحقیق میں بنیادی ذرات، کوانٹم نظریات، سمٹری اور بنیادی قوتوں کے باہمی تعلق جیسے موضوعات شامل رہے۔ ان کی سب سے نمایاں سائنسی خدمات میں برقی مقناطیسی اور کمزور جوہری تعاملات کو ایک متحد نظریے کے تحت بیان کرنے میں کردار شامل ہے۔
نوبیل انعام
1979ء میں ڈاکٹر عبدالسلام کو طبیعیات کا نوبیل انعام ملا۔ یہ انعام انہیں شیلڈن گلاشو اور اسٹیون وائن برگ کے ساتھ بنیادی ذرات کے درمیان کمزور اور برقی مقناطیسی تعاملات کی متحد نظریاتی تشریح میں خدمات پر دیا گیا۔ نوبیل فاؤنڈیشن کے مطابق اس نظریے نے کمزور غیر جانبدار رو (weak neutral currents) کی پیش گوئی بھی کی، جس کی بعد میں تجرباتی طور پر تصدیق ہوئی۔
عالمی سائنسی اداروں کے لیے خدمات
ڈاکٹر عبدالسلام نے ترقی پذیر ممالک کے سائنس دانوں کے لیے تحقیق کے مواقع پیدا کرنے کو اپنی علمی زندگی کا اہم مقصد بنایا۔ وہ 1964ء میں اٹلی کے شہر ٹریئسٹے میں قائم ہونے والے انٹرنیشنل سینٹر فار تھیوریٹیکل فزکس کے بانی اور پہلے ڈائریکٹر بنے اور 1993ء تک اس ادارے کی قیادت کرتے رہے۔ اس مرکز نے ترقی پذیر ممالک کے نوجوان سائنس دانوں کو عالمی تحقیقی برادری سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا۔
پاکستان کے لیے خدمات
ڈاکٹر عبدالسلام پاکستان میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے بھی سرگرم رہے۔ وہ پاکستان کے سائنسی و تعلیمی معاملات میں مشیر کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے اور ایٹمی توانائی، خلائی تحقیق اور سائنسی پالیسی سے متعلق مختلف قومی اداروں اور پروگراموں سے وابستہ رہے۔ بعد میں ان کی کوششوں سے ایسے بین الاقوامی سائنسی نیٹ ورکس کے قیام کی راہ ہموار ہوئی جن کا مقصد ترقی پذیر ممالک میں سائنس اور ٹیکنالوجی کو فروغ دینا تھا۔
علمی ورثہ
ڈاکٹر عبدالسلام کا علمی ورثہ صرف نوبیل انعام تک محدود نہیں۔ انہوں نے بنیادی طبیعیات میں اہم تحقیقی کام کیا اور دنیا بھر میں نوجوان سائنس دانوں کی تربیت اور بین الاقوامی سائنسی تعاون کے لیے ادارہ جاتی بنیادیں مضبوط کیں۔ ان کے نام سے قائم انٹرنیشنل سینٹر فار تھیوریٹیکل فزکس آج بھی ان کی سائنسی سوچ اور ترقی پذیر ممالک میں تحقیق کے فروغ کے تصور سے منسلک ہے۔
وفات
ڈاکٹر عبدالسلام 21 نومبر 1996ء کو آکسفورڈ، برطانیہ میں طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ انہیں پاکستان میں اپنے والدین کے قریب ربوہ میں سپردِ خاک کیا گیا۔
کارنامے
نوبیل انعام برائے طبیعیات
* 1979ء میں طبیعیات کا نوبیل انعام حاصل کیا۔
* یہ اعزاز شیلڈن گلاشو اور اسٹیون وائن برگ کے ساتھ مشترکہ طور پر ملا۔
* نوبیل انعام بنیادی ذرات کے درمیان کمزور اور برقی مقناطیسی تعاملات کی متحد نظریاتی تشریح میں ان کی خدمات کے اعتراف میں دیا گیا۔
نظریاتی طبیعیات میں خدمات
* برقی مقناطیسی اور کمزور جوہری تعاملات کے اتحاد کے نظریے میں بنیادی کردار ادا کیا۔
* بنیادی ذرات کی طبیعیات، کوانٹم فیلڈ تھیوری اور سمٹری سے متعلق اہم تحقیقی کام کیا۔
* کمزور غیر جانبدار تعاملات سے متعلق نظریاتی پیش گوئی میں حصہ لیا، جس کی بعد میں تجرباتی تصدیق ہوئی۔
بین الاقوامی سائنسی ادارہ سازی
* انٹرنیشنل سینٹر فار تھیوریٹیکل فزکس، ٹریئسٹے کے بانی اور پہلے ڈائریکٹر رہے۔
* 1964ء سے 1993ء تک اس ادارے کی قیادت کی۔
* ترقی پذیر ممالک کے سائنس دانوں کے لیے تحقیق، تربیت اور عالمی سائنسی روابط کے مواقع بڑھانے میں کردار ادا کیا۔
پاکستان میں سائنسی خدمات
* پاکستان میں اعلیٰ تعلیم اور بنیادی سائنسی تحقیق کے فروغ کے لیے کام کیا۔
* حکومتِ پاکستان کے سائنسی مشیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔
* پاکستان کے سائنسی، جوہری اور خلائی پروگراموں سے متعلق مختلف ادارہ جاتی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔
دیگر اعزازات
* کیمبرج یونیورسٹی کا اسمتھ پرائز حاصل کیا۔
* رائل سوسائٹی کا ہیوز میڈل 1964ء میں حاصل کیا۔
* رائل میڈل 1978ء میں حاصل کیا۔
* رائل سوسائٹی کا کوپلی میڈل 1990ء میں حاصل کیا۔
مشہور کام
برقی کمزور اتحاد کا نظریہ
ڈاکٹر عبدالسلام کا سب سے معروف سائنسی کام برقی مقناطیسی اور کمزور جوہری تعاملات کے اتحاد سے متعلق نظریہ ہے۔ شیلڈن گلاشو اور اسٹیون وائن برگ کے کام کے ساتھ مل کر اس نظریے نے جدید ذراتی طبیعیات کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا اور بنیادی قوتوں کو سمجھنے کے نئے راستے فراہم کیے۔
ذراتی طبیعیات اور کوانٹم فیلڈ تھیوری
* بنیادی ذرات کی سمٹری اور تعاملات پر تحقیق۔
* کوانٹم فیلڈ تھیوری میں اہم نظریاتی کام۔
* نیوٹرینو، کمزور تعاملات اور گیج تھیوری سے متعلق تحقیقی خدمات۔
* بنیادی قوتوں کے اتحاد اور اعلیٰ سطح کی نظریاتی طبیعیات سے متعلق تحقیق۔
سائنسی تحقیق کے فروغ کا ادارہ
انٹرنیشنل سینٹر فار تھیوریٹیکل فزکس کا قیام ڈاکٹر عبدالسلام کے بڑے ادارہ جاتی کارناموں میں شامل ہے۔ اس ادارے کا مقصد خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کے سائنس دانوں کو عالمی معیار کی تحقیق سے جوڑنا اور انہیں بین الاقوامی سائنسی ماحول تک رسائی دینا تھا۔
علمی تحریریں اور لیکچرز
ڈاکٹر عبدالسلام نے نظریاتی طبیعیات کے مختلف موضوعات پر تحقیقی مقالے اور علمی تحریریں شائع کیں۔ ان کی علمی سرگرمیوں میں بنیادی ذرات، کوانٹم نظریات، سمٹری، گیج نظریات اور بنیادی قوتوں کے اتحاد سے متعلق موضوعات نمایاں رہے۔ ان کے منتخب مضامین اور تقاریر بعد میں مختلف مجموعوں میں بھی شائع ہوئے۔
سائنسی ورثہ
ڈاکٹر عبدالسلام کی سب سے نمایاں میراث دو پہلوؤں پر مشتمل ہے: بنیادی طبیعیات میں ان کی تحقیق اور ترقی پذیر دنیا میں سائنسی تحقیق کے لیے عالمی ادارہ جاتی تعاون کا فروغ۔ ان کے نام سے منسوب انٹرنیشنل سینٹر فار تھیوریٹیکل فزکس اسی علمی ورثے کی ایک نمایاں مثال ہے۔
تاریخ پیدائش
29 Jan 1926
تاریخ وفات
21 Nov 1996
جائے پیدائش
جھنگ، پنجاب، برطانوی ہندوستان (موجودہ پاکستان)