Wednesday, September 23, 2026
FB
ڈاکٹر ثمر مبارک مند
سائنسدان

ڈاکٹر ثمر مبارک مند

Dr. Samar Mubarakmand
پیدائش: 17 Sep 1942 راولپنڈی، پنجاب، برطانوی ہندوستان (موجودہ پاکستان)
1 ویوز
2026 شامل شد

تعارف

ابتدائی زندگی اور تعلیم



ڈاکٹر ثمر مبارک مند پاکستان کے معروف ایٹمی طبیعیات دان اور سائنس دان ہیں۔ پاکستان اکیڈمی آف سائنسز کے ریکارڈ کے مطابق وہ 17 ستمبر 1942 کو راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے طبیعیات میں تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں برطانیہ کی یونیورسٹی آف آکسفورڈ سے تجرباتی ایٹمی طبیعیات میں ڈی فل مکمل کی۔ ان کی علمی تربیت نے انہیں تجرباتی تحقیق، ایٹمی آلات اور جوہری طبیعیات کے شعبوں میں کام کرنے کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کی۔

تجرباتی ایٹمی طبیعیات میں تحقیق



ڈاکٹر ثمر مبارک مند کا ابتدائی سائنسی کام تجرباتی ایٹمی طبیعیات سے وابستہ تھا۔ ان کے تحقیقی شعبوں میں ایٹمی ساخت، نیوکلیئر انسٹرومنٹیشن، گاما اسپیکٹروسکوپی اور نیوکلیئر ڈائگناسٹکس شامل رہے۔ پاکستان اکیڈمی آف سائنسز کے مطابق ان کی تحقیقی دلچسپیوں میں فائبر آپٹکس، لیزر کے استعمال، ایرو اسپیس ٹیکنالوجی اور دیگر سائنسی شعبے بھی شامل رہے۔

پاکستان اٹامک انرجی کمیشن میں خدمات



تعلیم مکمل کرنے کے بعد ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن میں سائنسی خدمات کا آغاز کیا۔ انہوں نے مختلف ادوار میں سائنٹیفک آفیسر، سینئر سائنٹیفک آفیسر، پرنسپل سائنٹیفک آفیسر، چیف سائنٹیفک آفیسر اور ڈائریکٹر سمیت اہم ذمہ داریاں انجام دیں۔ 1994ء سے 1995ء تک وہ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے ڈائریکٹر جنرل اور 1995ء سے 2000ء تک ممبر ٹیکنیکل رہے۔

قومی سائنسی منصوبوں میں کردار



ڈاکٹر ثمر مبارک مند کا نام پاکستان کے اہم سائنسی اور تکنیکی منصوبوں کے ساتھ وابستہ رہا ہے۔ پاکستان اکیڈمی آف سائنسز کے مطابق وہ نیشنل انجینئرنگ اینڈ سائنٹیفک کمیشن کے بانی چیئرمین رہے۔ ان کی ذمہ داریوں میں سائنسی تحقیق، انجینئرنگ اور قومی سطح کے ٹیکنالوجی منصوبوں سے متعلق مختلف شعبے شامل تھے۔

1998 کے جوہری تجربات



1998ء میں پاکستان کے جوہری تجربات کے دوران ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے سائنسی ٹیم اور تجرباتی سرگرمیوں میں اہم ذمہ داری ادا کی۔ دستیاب تاریخی ریکارڈ کے مطابق وہ چاغی میں پاکستان کے جوہری تجربات کے سائنسی انتظام اور ٹیسٹنگ سے وابستہ تھے۔ اس حوالے سے ان کا نام پاکستان کے جوہری پروگرام کی تاریخ میں نمایاں طور پر آتا ہے۔

میزائل اور دفاعی ٹیکنالوجی



ڈاکٹر ثمر مبارک مند کے کیریئر کا ایک اہم حصہ دفاعی سائنس اور ٹیکنالوجی سے متعلق منصوبوں سے بھی منسلک رہا۔ ان کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں میں نیوکلیئر ویپن سسٹمز، ایرو اسپیس ٹیکنالوجی اور سائنسی و انجینئرنگ منصوبے شامل رہے۔ پاکستان اکیڈمی آف سائنسز نے ان کے تحقیقی شعبوں میں نیوکلیئر ویپن سسٹمز اور ایرو اسپیس ٹیکنالوجی کو بھی درج کیا ہے۔

تھرکول اور معدنی منصوبے



بعد کے دور میں ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے توانائی اور معدنی وسائل سے متعلق منصوبوں میں بھی کام کیا۔ وہ تھرکول سے متعلق منصوبوں کے ساتھ وابستہ رہے اور سائنسی بنیادوں پر کوئلے کے استعمال اور توانائی پیدا کرنے کے امکانات پر کام کیا۔ پاکستان اکیڈمی آف سائنسز کے ریکارڈ میں ان کی تحقیقی دلچسپیوں میں انڈر گراؤنڈ کول گیسیفیکیشن، پاور جنریشن اور منرل ایکسپلوریشن بھی شامل ہیں۔

سائنسی اداروں اور تعلیمی سرگرمیوں سے وابستگی



ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے مختلف تعلیمی اور سائنسی اداروں میں بھی خدمات انجام دیں۔ وہ گورنمنٹ کالج لاہور کے سنٹر فار ایڈوانسڈ اسٹڈیز اِن فزکس سے وابستہ رہے اور بعد میں پاکستان کی سائنسی پالیسی اور منصوبہ بندی سے متعلق سرکاری ذمہ داریاں بھی سنبھالیں۔ 2007ء سے 2008ء تک وہ وزیر اعظم کے سائنس و ٹیکنالوجی سے متعلق خصوصی معاون رہے، جبکہ بعد میں پلاننگ کمیشن میں ممبر سائنس و ٹیکنالوجی کی ذمہ داری بھی سنبھالی۔

اعزازات اور علمی مقام



ڈاکٹر ثمر مبارک مند پاکستان اکیڈمی آف سائنسز کے فیلو بھی ہیں؛ انہیں 2003ء میں فیلو منتخب کیا گیا۔ حکومت پاکستان نے انہیں ستارۂ امتیاز، ہلالِ امتیاز اور نشانِ امتیاز سے نوازا۔ پاکستان اکیڈمی آف سائنسز کے ریکارڈ میں ڈاکٹر نذیر احمد ایوارڈ اور انٹرنیشنل سائنٹسٹ آف دی ایئر کا بھی ذکر موجود ہے۔

سائنسی ورثہ



ڈاکٹر ثمر مبارک مند کی سائنسی زندگی تجرباتی ایٹمی طبیعیات سے شروع ہو کر نیوکلیئر انسٹرومنٹیشن، قومی سائنسی اداروں، ایرو اسپیس ٹیکنالوجی، دفاعی تحقیق، توانائی اور معدنی وسائل تک پھیلی ہوئی ہے۔ ان کا نام پاکستان کی جدید سائنسی اور تکنیکی تاریخ کے متعدد اہم منصوبوں کے ساتھ منسلک رہا ہے۔

کارنامے

تجرباتی ایٹمی طبیعیات



* تجرباتی ایٹمی طبیعیات میں اعلیٰ سطح کی تحقیق کی۔
* نیوکلیئر انسٹرومنٹیشن اور نیوکلیئر ڈائگناسٹکس کے شعبوں میں کام کیا۔
* ایٹمی ساخت اور گاما اسپیکٹروسکوپی سے متعلق تحقیقی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔

پاکستان اٹامک انرجی کمیشن



* پاکستان اٹامک انرجی کمیشن میں مختلف سائنسی اور انتظامی عہدوں پر خدمات انجام دیں۔
* 1994ء سے 1995ء تک ڈائریکٹر جنرل پاکستان اٹامک انرجی کمیشن رہے۔
* 1995ء سے 2000ء تک کمیشن کے ممبر ٹیکنیکل کی ذمہ داری سنبھالی۔

نیشنل انجینئرنگ اینڈ سائنٹیفک کمیشن



* نیشنل انجینئرنگ اینڈ سائنٹیفک کمیشن کے بانی چیئرمین رہے۔
* قومی سطح کے انجینئرنگ اور سائنسی منصوبوں کی قیادت میں کردار ادا کیا۔

جوہری پروگرام



* 1998ء کے پاکستان کے جوہری تجربات سے متعلق سائنسی اور انتظامی سرگرمیوں میں اہم ذمہ داری ادا کی۔
* جوہری تجربات کی سائنسی تیاری اور ٹیسٹنگ کے عمل سے وابستہ رہے۔

سائنس اور ٹیکنالوجی



* پاکستان کی سائنس و ٹیکنالوجی پالیسی اور منصوبہ بندی سے متعلق سرکاری ذمہ داریاں انجام دیں۔
* وزیر اعظم کے سائنس و ٹیکنالوجی سے متعلق خصوصی معاون رہے۔
* پلاننگ کمیشن میں ممبر سائنس و ٹیکنالوجی کے طور پر خدمات انجام دیں۔

قومی اعزازات



* ستارۂ امتیاز — 1992ء
* ہلالِ امتیاز — 1998ء
* نشانِ امتیاز — 2003ء
* ڈاکٹر نذیر احمد ایوارڈ — 2005ء
* انٹرنیشنل سائنٹسٹ آف دی ایئر — 2007ء

پاکستان اکیڈمی آف سائنسز



* پاکستان اکیڈمی آف سائنسز کے فیلو منتخب ہوئے۔
* اکیڈمی کے ریکارڈ کے مطابق ان کا انتخاب 2003ء میں ہوا۔

مشہور کام

گاما اسپیکٹروسکوپی اور نیوکلیئر تحقیق



ڈاکٹر ثمر مبارک مند کے نمایاں سائنسی کاموں میں گاما اسپیکٹروسکوپی، ایٹمی ساخت اور تجرباتی ایٹمی طبیعیات سے متعلق تحقیق شامل ہے۔ انہوں نے ایسے سائنسی آلات اور تجرباتی طریقۂ کار پر بھی کام کیا جو ایٹمی تحقیق میں استعمال ہوتے ہیں۔

نیوکلیئر انسٹرومنٹیشن



نیوکلیئر انسٹرومنٹیشن ان کے اہم تحقیقی شعبوں میں شامل رہا۔ پاکستان اکیڈمی آف سائنسز نے ان کی تحقیق کے نمایاں میدانوں میں نیوکلیئر انسٹرومنٹیشن، نیوکلیئر ڈائگناسٹکس اور نیوکلیئر اسٹرکچر کو شامل کیا ہے۔

قومی سائنسی و دفاعی منصوبے



* نیشنل انجینئرنگ اینڈ سائنٹیفک کمیشن کی تشکیل اور قیادت سے وابستہ خدمات۔
* پاکستان کے جوہری تجربات سے متعلق سائنسی ذمہ داریاں۔
* ایرو اسپیس ٹیکنالوجی اور دفاعی سائنسی منصوبوں سے وابستگی۔

توانائی اور تھرکول



ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے توانائی کے شعبے میں بھی کام کیا۔ ان کی تحقیقی دلچسپیوں میں انڈر گراؤنڈ کول گیسیفیکیشن اور پاور جنریشن شامل رہے، جبکہ وہ تھرکول سے متعلق منصوبوں سے بھی وابستہ رہے۔

معدنی وسائل کی تلاش



ان کے بعد کے پیشہ ورانہ کاموں میں معدنی وسائل کی تلاش بھی شامل رہی۔ پاکستان اکیڈمی آف سائنسز کے ریکارڈ میں منرل ایکسپلوریشن کو ان کے تحقیقی اور پیشہ ورانہ شعبوں میں شمار کیا گیا ہے۔
تاریخ پیدائش
17 Sep 1942
جائے پیدائش
راولپنڈی، پنجاب، برطانوی ہندوستان (موجودہ پاکستان)