Saturday, September 26, 2026
FB
حمزہ علی عباسی
اداکار

حمزہ علی عباسی

Hamza Ali Abbasi
پیدائش: 23 Jun 1986 Multan, Punjab, Pakistan
0 ویوز
2026 شامل شد

تعارف

ابتدائی زندگی اور خاندانی پس منظر



حمزہ علی عباسی پاکستانی اداکار اور ہدایت کار ہیں جنہوں نے تھیٹر، ٹیلی ویژن اور فلم میں کام کیا۔ ان کی پیدائش 23 جون 1986 کو ملتان، پنجاب میں ہوئی۔ ان کے والد میجر ریٹائرڈ مظہر علی عباسی فوج سے وابستہ رہے، جبکہ ان کی والدہ نسیم اختر چوہدری جج اور سیاست سے وابستہ رہ چکی ہیں۔ ان کی بہن ڈاکٹر فزیلہ عباسی جلد کے امراض کی ماہر ڈاکٹر ہیں۔

ان کی ابتدائی زندگی میں تعلیم کے ساتھ مختلف شعبوں میں دلچسپی شامل رہی۔ انہوں نے بین الاقوامی تعلقات میں تعلیم حاصل کی۔ دستیاب سوانحی معلومات کے مطابق انہوں نے امریکا سے International Relations میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی اور بعد ازاں قائداعظم یونیورسٹی سے اسی مضمون میں ماسٹرز کیا۔ امریکا میں قیام کے دوران فلم سازی کی تعلیم سے بھی وابستہ رہے۔

سرکاری ملازمت سے فنونِ لطیفہ تک



حمزہ علی عباسی نے اداکاری کو مستقل پیشہ بنانے سے پہلے سول سروس کے امتحان میں کامیابی حاصل کی اور پولیس گروپ میں سرکاری ملازمت بھی اختیار کی، تاہم بعد میں انہوں نے اپنی دلچسپیوں، خصوصاً اداکاری اور فلم سازی، کو آگے بڑھانے کے لیے یہ ملازمت چھوڑ دی۔

یہ فیصلہ ان کے پیشہ ورانہ سفر کا اہم موڑ تھا۔ تھیٹر سے وابستگی کے ذریعے انہوں نے اداکاری کے بنیادی عملی تجربات حاصل کیے۔ ان کا تھیٹر ڈیبیو 2006 میں "Dally in the Dark" سے ہوا۔ تھیٹر کے اس تجربے نے انہیں براہِ راست ناظرین کے سامنے کردار ادا کرنے اور مکالمے و اسٹیج پرفارمنس کی مشق کا موقع دیا۔

فلم سازی اور ابتدائی اداکاری



حمزہ علی عباسی نے اداکاری کے ساتھ ہدایت کاری میں بھی دلچسپی لی۔ ان کے ابتدائی ہدایت کاری کے کاموں میں "Mudhouse and the Golden Doll" شامل ہے، جس کے ذریعے انہوں نے فلم سازی کے میدان میں اپنی صلاحیت آزمائی۔

ٹیلی ویژن پر ان کے ابتدائی ڈرامائی کاموں میں "Mere Dard Ko Jo Zuban Miley" شامل ہے۔ تاہم ان کی بڑی شناخت 2013 کے دوران بننا شروع ہوئی، جب وہ "Main Hoon Shahid Afridi" اور "Waar" جیسی فلموں میں نظر آئے۔ "Main Hoon Shahid Afridi" میں ان کے کردار اور "Waar" میں معاون کردار نے انہیں فلمی ناظرین میں نمایاں کیا۔

ان دونوں فلموں کے لیے انہیں 2014 کے ARY Film Awards میں دو اہم اعزازات ملے۔ "Main Hoon Shahid Afridi" کے لیے Best Star Debut Male جبکہ "Waar" کے لیے Best Supporting Actor کا ایوارڈ حاصل کیا۔

"پیارے افضل" اور ٹیلی ویژن پر شہرت



حمزہ علی عباسی کے کیریئر کا ایک بڑا مرحلہ ڈرامہ "پیارے افضل" تھا، جو 2013 اور 2014 کے دوران نشر ہوا۔ انہوں نے اس میں افضل کا مرکزی کردار ادا کیا۔ کردار کی کہانی میں محبت، خاندان، سماجی حالات اور ذاتی فیصلوں کے مختلف پہلو شامل تھے۔

"پیارے افضل" کی مقبولیت نے حمزہ علی عباسی کو ٹیلی ویژن کے نمایاں اداکاروں میں شامل کیا۔ ان کی کارکردگی پر 2015 کے Lux Style Awards میں Best Television Actor کا اعزاز دیا گیا۔

یہ کردار ان کے فنی سفر میں اس لیے بھی اہم رہا کہ اس کے بعد انہیں بڑے ٹیلی ویژن منصوبوں میں مرکزی کردار ملنے لگے۔ ان کے کام کے بارے میں اس دور کی جائزوں اور رپورٹس میں بھی "پیارے افضل" میں ان کی اداکاری کو نمایاں کیا گیا۔

"جوانی پھر نہیں آنی" اور فلمی کام



2015 میں حمزہ علی عباسی فلم "Jawani Phir Nahi Ani" میں بھی نظر آئے۔ فلم میں ان کا کردار معاون نوعیت کا تھا اور یہ ایک کامیاب کمرشل فلم کے طور پر سامنے آئی۔ ان کی کارکردگی پر انہیں 2016 کے ARY Film Awards میں Best Supporting Actor کا اعزاز ملا۔

اس کے بعد انہوں نے فلم اور ٹیلی ویژن دونوں میں کام جاری رکھا۔ "Mann Mayal" میں انہوں نے صلاح الدین کا کردار ادا کیا۔ 2017 میں اس ڈرامے کے لیے انہیں Hum TV Awards میں Best Actor Popular کا اعزاز ملا۔ اسی ڈرامے میں ان کی جوڑی کو بھی ایوارڈ دیا گیا۔

"پرواز ہے جنون" اور فلمی سفر



حمزہ علی عباسی کی نمایاں فلموں میں "Parwaaz Hay Junoon" بھی شامل ہے، جس میں انہوں نے پاک فضائیہ سے متعلق کہانی میں اہم کردار ادا کیا۔ فلم میں ہمایوں سعید، شاز خان اور دیگر فنکار بھی شامل تھے۔

یہ فلم پاکستانی فضائیہ کے پائلٹوں کی زندگی، تربیت اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے پس منظر میں بنائی گئی تھی۔ حمزہ علی عباسی نے اس فلم کے ذریعے ایک مختلف نوعیت کے فلمی کردار میں کام کیا اور ان کا فلمی سفر جاری رہا۔

"الف" اور اداکاری میں نیا مرحلہ



2019 میں ڈرامہ "الف" میں حمزہ علی عباسی نے قاسم کا مرکزی کردار ادا کیا۔ یہ ڈرامہ روحانیت، فن، انسانی تعلقات اور زندگی کے مقصد جیسے موضوعات کے گرد گھومتا تھا۔ ان کے کردار کے ذریعے کہانی میں روحانی اور فکری پہلوؤں کو نمایاں جگہ ملی۔

"الف" میں ان کی کارکردگی کو ایوارڈز میں بھی تسلیم کیا گیا اور انہیں Lux Style Awards میں Best TV Actor کی کیٹیگری میں نامزد کیا گیا۔

"الف" کے بعد انہوں نے اداکاری سے وقفہ لینے کا اعلان کیا اور مذہب و دینی مطالعے پر زیادہ توجہ دینے کی بات کی۔ بعد میں ان کے بارے میں رپورٹس میں واضح کیا گیا کہ انہوں نے اداکاری مکمل طور پر ترک نہیں کی تھی بلکہ ایک وقفہ اختیار کیا تھا۔

"دی لیجنڈ آف مولا جٹ"



2022 میں حمزہ علی عباسی فلم "The Legend of Maula Jatt" میں نوری نت کے کردار میں نظر آئے۔ یہ ان کے فلمی کیریئر کا نمایاں کردار تھا۔ فلم میں فواد خان نے مولا جٹ اور حمزہ علی عباسی نے نوری نت کا کردار ادا کیا، جبکہ ماہرہ خان، گوہر رشید اور دیگر فنکار بھی اہم کرداروں میں شامل تھے۔

نوری نت کا کردار ایک منفی اور طاقتور مخالف کردار کے طور پر پیش کیا گیا۔ اس کردار میں حمزہ علی عباسی نے اپنی سابقہ رومانوی یا ہیرو کے کرداروں سے مختلف انداز اختیار کیا۔ فلم کی بڑے پیمانے پر کامیابی نے اسے پاکستانی سینما کی نمایاں فلموں میں شامل کر دیا۔

ذاتی زندگی اور بعد کا فنی سفر



حمزہ علی عباسی نے 2019 میں اداکارہ اور ماڈل نمل خاور سے شادی کی۔ شادی کے بعد بھی ان کا تعلق تفریحی صنعت سے مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ انہوں نے اپنے فنی کام کے ساتھ مذہبی اور فکری موضوعات میں بھی دلچسپی جاری رکھی۔

2024 میں ان کی کتاب "My Discovery of God, Islam & Judgement Day" شائع ہوئی، جس میں انہوں نے مذہب، خدا کے تصور اور آخرت سے متعلق اپنے فکری مطالعے اور خیالات پیش کیے۔ یہ کتاب ان کے اداکاری کے علاوہ فکری دلچسپیوں کا بھی ایک پہلو سامنے لاتی ہے۔

فنی شناخت اور پاکستانی شوبز میں کردار



حمزہ علی عباسی کا فنی سفر تھیٹر سے شروع ہو کر ٹیلی ویژن اور فلم تک پھیلا ہوا ہے۔ "پیارے افضل" نے انہیں وسیع ٹیلی ویژن شناخت دی، "مَن مَیَل" نے ان کی مقبولیت کو مزید بڑھایا، جبکہ "الف" نے انہیں نسبتاً فکری اور روحانی موضوعات پر مبنی کردار ادا کرنے کا موقع دیا۔

فلم کے میدان میں "Waar"، "Main Hoon Shahid Afridi"، "Jawani Phir Nahi Ani"، "Parwaaz Hay Junoon" اور "The Legend of Maula Jatt" ان کے اہم کاموں میں شمار ہوتے ہیں۔ اداکاری کے ساتھ ہدایت کاری اور فلم سازی میں ابتدائی دلچسپی بھی ان کے کیریئر کا حصہ رہی ہے۔

ان کے فنی سفر میں مختلف نوعیت کے کردار شامل ہیں، جن میں رومانوی، سنجیدہ، مزاحیہ اور منفی کردار نمایاں ہیں۔ یہی تنوع ان کے کیریئر کو پاکستانی ٹیلی ویژن اور فلم کی مختلف اصناف سے جوڑتا ہے۔

کارنامے

اداکاری کے اعزازات



• "Main Hoon Shahid Afridi" کے لیے 2014 کے ARY Film Awards میں Best Star Debut Male کا اعزاز حاصل کیا۔

• "Waar" میں اداکاری پر 2014 کے ARY Film Awards میں Best Supporting Actor کا اعزاز حاصل کیا۔

• "پیارے افضل" میں افضل کے کردار پر 2015 کے Lux Style Awards میں Best Television Actor کا ایوارڈ حاصل کیا۔

• "Jawani Phir Nahi Ani" کے لیے 2016 کے ARY Film Awards میں Best Supporting Actor کا اعزاز حاصل کیا۔

• "Mann Mayal" کے لیے 2017 کے Hum TV Awards میں Best Actor Popular کا اعزاز حاصل کیا۔

فلمی خدمات



• "The Legend of Maula Jatt" میں نوری نت کا کردار ادا کیا، جو ان کے اہم فلمی کرداروں میں شمار ہوتا ہے۔

• "Parwaaz Hay Junoon" سمیت کئی بڑے پاکستانی فلمی منصوبوں میں کام کیا۔

• اداکاری کے علاوہ ابتدائی دور میں فلم سازی اور ہدایت کاری میں بھی کام کیا۔

فنی تنوع



• تھیٹر سے اپنے فنی سفر کا آغاز کرنے کے بعد ٹیلی ویژن اور فلم میں مرکزی اور معاون کردار ادا کیے۔

• "پیارے افضل"، "مَن مَیَل" اور "الف" جیسے مختلف موضوعات کے ڈراموں میں اہم کردار ادا کیے۔

• اداکاری کے ساتھ مذہبی اور فکری موضوعات پر تحریری کام بھی کیا اور 2024 میں "My Discovery of God, Islam & Judgement Day" کتاب شائع ہوئی۔

مشہور کام

نمایاں ٹیلی ویژن ڈرامے



• Mere Dard Ko Jo Zuban Miley

• پیارے افضل (Pyarey Afzal)

• مَن مَیَل (Mann Mayal)

• الف (Alif)

• Jaan-e-Jahan

نمایاں فلمیں



• Main Hoon Shahid Afridi (2013)

• Waar (2013)

• Jawani Phir Nahi Ani (2015)

• Parwaaz Hay Junoon (2018)

• The Legend of Maula Jatt (2022)

نمایاں کردار



• پیارے افضل — افضل

• مَن مَیَل — صلاح الدین

• الف — قاسم

• The Legend of Maula Jatt — نوری نت

ابتدائی تھیٹر اور ہدایت کاری



• Dally in the Dark — تھیٹر ڈیبیو

• Mudhouse and the Golden Doll — ابتدائی ہدایت کاری کا کام

کتاب



• My Discovery of God, Islam & Judgement Day — 2024 میں شائع ہونے والی کتاب
تاریخ پیدائش
23 Jun 1986
جائے پیدائش
Multan, Punjab, Pakistan