سیاستدان
مہر محمد اسلم بھروانہ
Mehar Muhammad Aslam Bharwana
قابلِ اعتماد مستند ریکارڈ سے جائے پیدائش کی حتمی تصدیق نہیں ہو سکی۔ ان کا سیاسی تعلق ضلع جھنگ سے ہے۔
تعارف
مہر محمد اسلم بھروانہ ضلع جھنگ سے تعلق رکھنے والے پاکستانی سیاستدان ہیں جنہوں نے کئی ادوار میں پنجاب کی صوبائی سیاست میں حصہ لیا اور پنجاب اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ ان کا سیاسی سفر تین دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط ہے اور ان کا نام جھنگ کے ان سیاسی خاندانوں میں شمار ہوتا ہے جنہوں نے مختلف ادوار میں صوبائی سیاست میں نمایاں کردار ادا کیا۔ دستیاب انتخابی ریکارڈ میں ان کا نام بعض جگہ مہر محمد اسلم خان بھروانہ اور بعض جگہ مہر محمد اسلم خان بھروانہ سیال کے طور پر بھی درج ہوا ہے۔
ابتدائی سیاسی سفر
مہر محمد اسلم بھروانہ نے پہلی مرتبہ 1988 کے عام انتخابات میں پنجاب اسمبلی کے حلقہ PP-66 جھنگ سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے کامیابی حاصل کی۔ الیکشن کمیشن کے انتخابی ریکارڈ کے مطابق انہوں نے اس انتخاب میں 16,743 ووٹ حاصل کیے۔ اس کامیابی کے بعد وہ صوبائی سیاست میں باقاعدہ طور پر نمایاں ہوئے۔
1990 کے عام انتخابات میں بھی وہ اسی حلقے سے کامیاب ہوئے۔ اس مرتبہ ان کا انتخابی نشان اور جماعتی وابستگی جماعت اسلامی سے درج ہوئی اور انہوں نے 23,197 ووٹ حاصل کیے۔ یوں مسلسل دوسری مرتبہ پنجاب اسمبلی تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔
1993 کا انتخاب
1993 کے عام انتخابات میں مہر محمد اسلم بھروانہ نے پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار کی حیثیت سے PP-66 جھنگ سے الیکشن لڑا۔ اس مقابلے میں وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ الیکشن کمیشن کے ریکارڈ کے مطابق انہیں 24,151 ووٹ ملے جبکہ رکن اسمبلی منتخب ہونے والے ریا ض ہاشمت جنجوعہ نے 24,155 ووٹ حاصل کیے۔ دونوں امیدواروں کے درمیان صرف چار ووٹوں کا فرق تھا۔
یہ نتیجہ ان کے سیاسی کیریئر کے ان انتخابات میں شمار ہوتا ہے جہاں کامیابی اور ناکامی کا فیصلہ انتہائی معمولی فرق سے ہوا۔
1997 میں دوبارہ پنجاب اسمبلی میں واپسی
1997 کے عام انتخابات میں مہر محمد اسلم خان بھروانہ سیال نے ایک مرتبہ پھر PP-66 جھنگ سے پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار کی حیثیت سے حصہ لیا اور کامیاب ہوئے۔ الیکشن کمیشن کے ریکارڈ کے مطابق انہوں نے 26,978 ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے قریبی حریف ریا ض ہاشمت جنجوعہ کو 17,028 ووٹ ملے۔
اس کامیابی کے نتیجے میں وہ 1997 سے 1999 تک پنجاب اسمبلی کے رکن رہے۔ مختلف مقامی اور سیاسی حوالوں میں انہیں جھنگ کے ایک پرانے سیاسی خاندان سے وابستہ رہنما کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔
2018 کا سیاسی مرحلہ
کئی برس کے وقفے کے بعد مہر محمد اسلم بھروانہ نے 2018 کے عام انتخابات میں دوبارہ صوبائی سیاست میں فعال کردار ادا کیا۔ وہ PP-127 جھنگ سے آزاد امیدوار کے طور پر میدان میں اترے اور 27,353 ووٹ حاصل کرکے کامیاب ہوئے۔ ان کے مد مقابل مہر محمد نواز بھروانہ نے 26,765 ووٹ حاصل کیے۔ کامیابی کا فرق تقریباً 600 ووٹ تھا۔
2018 کے انتخابات کے بعد مہر محمد اسلم بھروانہ نے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی۔ بعد ازاں انہیں پنجاب کی عثمان بزدار حکومت میں صوبائی کابینہ میں شامل کیا گیا اور کوآپریٹو کے محکمے کا قلمدان دیا گیا۔
صوبائی وزیر برائے کوآپریٹو
مہر محمد اسلم بھروانہ نے پنجاب کے صوبائی وزیر برائے کوآپریٹو کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔ اس عہدے کے دوران ان کی سرگرمیوں میں کوآپریٹو اداروں، سوسائٹیز اور متعلقہ انتظامی معاملات سے متعلق اجلاسوں اور سرکاری سرگرمیوں میں شرکت شامل رہی۔
سرکاری ضلعی ویب سائٹ کے ایک ریکارڈ میں انہیں پنجاب کا وزیر امدادِ باہمی قرار دیتے ہوئے بھکر کے رمضان بازار کے دورے اور متعلقہ انتظامی حکام کے ساتھ اجلاس کا ذکر کیا گیا ہے۔
2019 میں وہ کوآپریٹو کے صوبائی وزیر کی حیثیت سے جھنگ میں ایک تقریب میں شریک ہوئے جہاں انہوں نے ملکی اور سماجی معاملات پر خطاب بھی کیا۔
2022 کا ضمنی انتخاب
2022 میں پنجاب اسمبلی کے بعض ارکان کو آئینی شق 63-A کے تحت منحرف ہونے کے معاملے میں ڈی سیٹ کیا گیا۔ مہر محمد اسلم بھروانہ کا نام بھی PP-127 جھنگ کے ڈی سیٹ ہونے والے ارکان میں شامل تھا۔ الیکشن کمیشن کی کارروائی کے بعد اس حلقے میں ضمنی انتخاب ہوا۔
ضمنی انتخاب میں مہر محمد اسلم بھروانہ نے پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار کی حیثیت سے حصہ لیا، جبکہ ان کے مقابلے میں مہر محمد نواز بھروانہ پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار تھے۔ مہر محمد نواز بھروانہ نے 71,648 ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی، جبکہ مہر محمد اسلم بھروانہ کو 47,413 ووٹ ملے۔
2024 کے انتخابات
2024 کے عام انتخابات کے لیے پاکستان مسلم لیگ ن نے مہر محمد اسلم بھروانہ کو جھنگ کے صوبائی حلقے PP-126 سے امیدوار نامزد کیا تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2022 کے ضمنی انتخاب کے بعد بھی وہ قومی و صوبائی سیاست میں فعال رہے۔
جھنگ کی سیاست میں کردار
مہر محمد اسلم بھروانہ کا سیاسی سفر بنیادی طور پر ضلع جھنگ کی صوبائی سیاست سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے مختلف ادوار میں اسی خطے کے انتخابی حلقوں سے پنجاب اسمبلی کا انتخاب لڑا اور متعدد مرتبہ کامیابی حاصل کی۔ ان کے سیاسی سفر میں آزاد امیدوار، جماعت اسلامی اور پاکستان مسلم لیگ ن سے وابستگی کے مختلف مراحل سامنے آتے ہیں، جبکہ 2018 کے بعد وہ پاکستان تحریک انصاف سے وابستہ ہوئے اور صوبائی کابینہ کا حصہ بنے۔
مقامی ذرائع میں ان کے دورِ نمائندگی کے دوران بنیادی مراکز صحت، سکولوں اور دیگر مقامی سہولیات سے متعلق کاموں کا ذکر بھی ملتا ہے، تاہم ایسے دعووں کو انفرادی طور پر سرکاری منصوبہ جاتی ریکارڈ سے جانچنا ضروری ہے۔
سیاسی خاندان اور مقامی اثرات
مہر محمد اسلم بھروانہ کا تعلق جھنگ کے بھروانہ خاندان سے بتایا جاتا ہے۔ ان کے خاندان کے دیگر افراد بھی مختلف ادوار میں سیاسی سرگرمیوں اور انتخابی سیاست میں نظر آئے ہیں۔ مقامی سیاسی رپورٹوں میں ان کے بھائی سلطان سکندر بھروانہ کا بھی ذکر ملتا ہے، جو پنجاب اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں۔
مجموعی تعارف
مہر محمد اسلم بھروانہ کا سیاسی کیریئر پنجاب اسمبلی کے کئی ادوار پر مشتمل ہے۔ وہ 1988 اور 1990 میں کامیاب ہوئے، 1993 میں معمولی چار ووٹوں کے فرق سے شکست کھائی، 1997 میں دوبارہ کامیاب ہوئے اور طویل وقفے کے بعد 2018 میں PP-127 جھنگ سے دوبارہ پنجاب اسمبلی پہنچے۔ 2018 کے بعد انہوں نے پنجاب کابینہ میں صوبائی وزیر برائے کوآپریٹو کی ذمہ داری بھی سنبھالی۔ 2022 میں ان کی اسمبلی رکنیت ختم ہونے کے بعد PP-127 میں ضمنی انتخاب ہوا، جس میں وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ 2024 کے عام انتخابات میں مسلم لیگ ن نے انہیں PP-126 سے امیدوار نامزد کیا۔
ابتدائی سیاسی سفر
مہر محمد اسلم بھروانہ نے پہلی مرتبہ 1988 کے عام انتخابات میں پنجاب اسمبلی کے حلقہ PP-66 جھنگ سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے کامیابی حاصل کی۔ الیکشن کمیشن کے انتخابی ریکارڈ کے مطابق انہوں نے اس انتخاب میں 16,743 ووٹ حاصل کیے۔ اس کامیابی کے بعد وہ صوبائی سیاست میں باقاعدہ طور پر نمایاں ہوئے۔
1990 کے عام انتخابات میں بھی وہ اسی حلقے سے کامیاب ہوئے۔ اس مرتبہ ان کا انتخابی نشان اور جماعتی وابستگی جماعت اسلامی سے درج ہوئی اور انہوں نے 23,197 ووٹ حاصل کیے۔ یوں مسلسل دوسری مرتبہ پنجاب اسمبلی تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔
1993 کا انتخاب
1993 کے عام انتخابات میں مہر محمد اسلم بھروانہ نے پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار کی حیثیت سے PP-66 جھنگ سے الیکشن لڑا۔ اس مقابلے میں وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ الیکشن کمیشن کے ریکارڈ کے مطابق انہیں 24,151 ووٹ ملے جبکہ رکن اسمبلی منتخب ہونے والے ریا ض ہاشمت جنجوعہ نے 24,155 ووٹ حاصل کیے۔ دونوں امیدواروں کے درمیان صرف چار ووٹوں کا فرق تھا۔
یہ نتیجہ ان کے سیاسی کیریئر کے ان انتخابات میں شمار ہوتا ہے جہاں کامیابی اور ناکامی کا فیصلہ انتہائی معمولی فرق سے ہوا۔
1997 میں دوبارہ پنجاب اسمبلی میں واپسی
1997 کے عام انتخابات میں مہر محمد اسلم خان بھروانہ سیال نے ایک مرتبہ پھر PP-66 جھنگ سے پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار کی حیثیت سے حصہ لیا اور کامیاب ہوئے۔ الیکشن کمیشن کے ریکارڈ کے مطابق انہوں نے 26,978 ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے قریبی حریف ریا ض ہاشمت جنجوعہ کو 17,028 ووٹ ملے۔
اس کامیابی کے نتیجے میں وہ 1997 سے 1999 تک پنجاب اسمبلی کے رکن رہے۔ مختلف مقامی اور سیاسی حوالوں میں انہیں جھنگ کے ایک پرانے سیاسی خاندان سے وابستہ رہنما کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔
2018 کا سیاسی مرحلہ
کئی برس کے وقفے کے بعد مہر محمد اسلم بھروانہ نے 2018 کے عام انتخابات میں دوبارہ صوبائی سیاست میں فعال کردار ادا کیا۔ وہ PP-127 جھنگ سے آزاد امیدوار کے طور پر میدان میں اترے اور 27,353 ووٹ حاصل کرکے کامیاب ہوئے۔ ان کے مد مقابل مہر محمد نواز بھروانہ نے 26,765 ووٹ حاصل کیے۔ کامیابی کا فرق تقریباً 600 ووٹ تھا۔
2018 کے انتخابات کے بعد مہر محمد اسلم بھروانہ نے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی۔ بعد ازاں انہیں پنجاب کی عثمان بزدار حکومت میں صوبائی کابینہ میں شامل کیا گیا اور کوآپریٹو کے محکمے کا قلمدان دیا گیا۔
صوبائی وزیر برائے کوآپریٹو
مہر محمد اسلم بھروانہ نے پنجاب کے صوبائی وزیر برائے کوآپریٹو کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔ اس عہدے کے دوران ان کی سرگرمیوں میں کوآپریٹو اداروں، سوسائٹیز اور متعلقہ انتظامی معاملات سے متعلق اجلاسوں اور سرکاری سرگرمیوں میں شرکت شامل رہی۔
سرکاری ضلعی ویب سائٹ کے ایک ریکارڈ میں انہیں پنجاب کا وزیر امدادِ باہمی قرار دیتے ہوئے بھکر کے رمضان بازار کے دورے اور متعلقہ انتظامی حکام کے ساتھ اجلاس کا ذکر کیا گیا ہے۔
2019 میں وہ کوآپریٹو کے صوبائی وزیر کی حیثیت سے جھنگ میں ایک تقریب میں شریک ہوئے جہاں انہوں نے ملکی اور سماجی معاملات پر خطاب بھی کیا۔
2022 کا ضمنی انتخاب
2022 میں پنجاب اسمبلی کے بعض ارکان کو آئینی شق 63-A کے تحت منحرف ہونے کے معاملے میں ڈی سیٹ کیا گیا۔ مہر محمد اسلم بھروانہ کا نام بھی PP-127 جھنگ کے ڈی سیٹ ہونے والے ارکان میں شامل تھا۔ الیکشن کمیشن کی کارروائی کے بعد اس حلقے میں ضمنی انتخاب ہوا۔
ضمنی انتخاب میں مہر محمد اسلم بھروانہ نے پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار کی حیثیت سے حصہ لیا، جبکہ ان کے مقابلے میں مہر محمد نواز بھروانہ پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار تھے۔ مہر محمد نواز بھروانہ نے 71,648 ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی، جبکہ مہر محمد اسلم بھروانہ کو 47,413 ووٹ ملے۔
2024 کے انتخابات
2024 کے عام انتخابات کے لیے پاکستان مسلم لیگ ن نے مہر محمد اسلم بھروانہ کو جھنگ کے صوبائی حلقے PP-126 سے امیدوار نامزد کیا تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2022 کے ضمنی انتخاب کے بعد بھی وہ قومی و صوبائی سیاست میں فعال رہے۔
جھنگ کی سیاست میں کردار
مہر محمد اسلم بھروانہ کا سیاسی سفر بنیادی طور پر ضلع جھنگ کی صوبائی سیاست سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے مختلف ادوار میں اسی خطے کے انتخابی حلقوں سے پنجاب اسمبلی کا انتخاب لڑا اور متعدد مرتبہ کامیابی حاصل کی۔ ان کے سیاسی سفر میں آزاد امیدوار، جماعت اسلامی اور پاکستان مسلم لیگ ن سے وابستگی کے مختلف مراحل سامنے آتے ہیں، جبکہ 2018 کے بعد وہ پاکستان تحریک انصاف سے وابستہ ہوئے اور صوبائی کابینہ کا حصہ بنے۔
مقامی ذرائع میں ان کے دورِ نمائندگی کے دوران بنیادی مراکز صحت، سکولوں اور دیگر مقامی سہولیات سے متعلق کاموں کا ذکر بھی ملتا ہے، تاہم ایسے دعووں کو انفرادی طور پر سرکاری منصوبہ جاتی ریکارڈ سے جانچنا ضروری ہے۔
سیاسی خاندان اور مقامی اثرات
مہر محمد اسلم بھروانہ کا تعلق جھنگ کے بھروانہ خاندان سے بتایا جاتا ہے۔ ان کے خاندان کے دیگر افراد بھی مختلف ادوار میں سیاسی سرگرمیوں اور انتخابی سیاست میں نظر آئے ہیں۔ مقامی سیاسی رپورٹوں میں ان کے بھائی سلطان سکندر بھروانہ کا بھی ذکر ملتا ہے، جو پنجاب اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں۔
مجموعی تعارف
مہر محمد اسلم بھروانہ کا سیاسی کیریئر پنجاب اسمبلی کے کئی ادوار پر مشتمل ہے۔ وہ 1988 اور 1990 میں کامیاب ہوئے، 1993 میں معمولی چار ووٹوں کے فرق سے شکست کھائی، 1997 میں دوبارہ کامیاب ہوئے اور طویل وقفے کے بعد 2018 میں PP-127 جھنگ سے دوبارہ پنجاب اسمبلی پہنچے۔ 2018 کے بعد انہوں نے پنجاب کابینہ میں صوبائی وزیر برائے کوآپریٹو کی ذمہ داری بھی سنبھالی۔ 2022 میں ان کی اسمبلی رکنیت ختم ہونے کے بعد PP-127 میں ضمنی انتخاب ہوا، جس میں وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ 2024 کے عام انتخابات میں مسلم لیگ ن نے انہیں PP-126 سے امیدوار نامزد کیا۔
کارنامے
* 1988 کے عام انتخابات میں PP-66 جھنگ سے پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور 16,743 ووٹ حاصل کیے۔
* 1990 کے عام انتخابات میں اسی حلقے سے دوبارہ پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور 23,197 ووٹ حاصل کیے۔
* 1997 کے عام انتخابات میں PP-66 جھنگ سے پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار کی حیثیت سے کامیابی حاصل کی اور 26,978 ووٹ حاصل کیے۔
* 2018 کے عام انتخابات میں PP-127 جھنگ سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے کامیاب ہوئے اور 27,353 ووٹ حاصل کیے۔
* 2018 کے بعد پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی اور پنجاب کابینہ میں صوبائی وزیر برائے کوآپریٹو کی ذمہ داری سنبھالی۔
* صوبائی وزیر کی حیثیت سے کوآپریٹو ڈیپارٹمنٹ سے متعلق سرکاری سرگرمیوں اور اجلاسوں میں شرکت کی۔
* 2022 میں PP-127 کے ضمنی انتخاب میں پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار کے طور پر حصہ لیا۔
* 2024 کے عام انتخابات کے لیے پاکستان مسلم لیگ ن نے انہیں PP-126 جھنگ سے امیدوار نامزد کیا۔
* 1990 کے عام انتخابات میں اسی حلقے سے دوبارہ پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور 23,197 ووٹ حاصل کیے۔
* 1997 کے عام انتخابات میں PP-66 جھنگ سے پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار کی حیثیت سے کامیابی حاصل کی اور 26,978 ووٹ حاصل کیے۔
* 2018 کے عام انتخابات میں PP-127 جھنگ سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے کامیاب ہوئے اور 27,353 ووٹ حاصل کیے۔
* 2018 کے بعد پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی اور پنجاب کابینہ میں صوبائی وزیر برائے کوآپریٹو کی ذمہ داری سنبھالی۔
* صوبائی وزیر کی حیثیت سے کوآپریٹو ڈیپارٹمنٹ سے متعلق سرکاری سرگرمیوں اور اجلاسوں میں شرکت کی۔
* 2022 میں PP-127 کے ضمنی انتخاب میں پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار کے طور پر حصہ لیا۔
* 2024 کے عام انتخابات کے لیے پاکستان مسلم لیگ ن نے انہیں PP-126 جھنگ سے امیدوار نامزد کیا۔
مشہور کام
* پنجاب اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے متعدد ادوار میں نمائندگی
* 1988 میں PP-66 جھنگ سے کامیابی
* 1990 میں PP-66 جھنگ سے دوبارہ کامیابی
* 1997 میں PP-66 جھنگ سے پاکستان مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر کامیابی
* 2018 میں PP-127 جھنگ سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے کامیابی
* پنجاب کے صوبائی وزیر برائے کوآپریٹو کی حیثیت سے خدمات
* جھنگ کی صوبائی سیاست میں طویل عرصے تک سرگرم سیاسی کردار
* 2022 کے PP-127 ضمنی انتخاب میں سیاسی مقابلہ
* 2024 کے عام انتخابات میں PP-126 جھنگ سے پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار کی حیثیت سے نامزدگی
* 1988 میں PP-66 جھنگ سے کامیابی
* 1990 میں PP-66 جھنگ سے دوبارہ کامیابی
* 1997 میں PP-66 جھنگ سے پاکستان مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر کامیابی
* 2018 میں PP-127 جھنگ سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے کامیابی
* پنجاب کے صوبائی وزیر برائے کوآپریٹو کی حیثیت سے خدمات
* جھنگ کی صوبائی سیاست میں طویل عرصے تک سرگرم سیاسی کردار
* 2022 کے PP-127 ضمنی انتخاب میں سیاسی مقابلہ
* 2024 کے عام انتخابات میں PP-126 جھنگ سے پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار کی حیثیت سے نامزدگی
جائے پیدائش
قابلِ اعتماد مستند ریکارڈ سے جائے پیدائش کی حتمی تصدیق نہیں ہو سکی۔ ان کا سیاسی تعلق ضلع جھنگ سے ہے۔