سیاستدان
محمد تیمور خان
Muhammad Taimoor Khan
پیدائش: 10 Jan 1988
جھنگ، پنجاب، پاکستان پنجاب اسمبلی کے سرکاری سوانحی ریکارڈ میں ان کی جائے پیدائش جھنگ درج ہے۔
تعارف
محمد تیمور خان — تعارف
ابتدائی زندگی اور خاندانی پس منظر
محمد تیمور خان کا تعلق ضلع جھنگ، پنجاب سے ہے۔ پنجاب اسمبلی کے سرکاری سوانحی ریکارڈ کے مطابق وہ 10 جنوری 1988 کو جھنگ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد لیاقت حیات خان تھے، جنہوں نے 2001 سے 2008 کے دوران دو مرتبہ ضلع ناظم جھنگ کی ذمہ داری انجام دی۔ اس خاندانی پس منظر نے محمد تیمور خان کو مقامی سیاسی اور انتظامی ماحول سے ابتدائی عمر ہی میں واقف ہونے کا موقع فراہم کیا۔
ان کا مستقل پتہ تحلی دولت خان، ڈاک خانہ شاہ نکدر، تحصیل و ضلع جھنگ درج کیا گیا ہے۔ پنجاب اسمبلی کے سرکاری ریکارڈ میں ان کے پیشے کو زمینداری سے بھی منسلک کیا گیا ہے۔
تعلیم
محمد تیمور خان نے 2008 میں بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے گریجویشن مکمل کی۔ ان کی تعلیمی زندگی کا یہ مرحلہ ان کے عملی سیاسی سفر سے پہلے مکمل ہوا۔ پنجاب اسمبلی کے سرکاری سوانحی ریکارڈ میں ان کی گریجویشن اور یونیورسٹی کا واضح ذکر موجود ہے۔
تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے اپنے آبائی علاقے میں سماجی اور سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کیا۔ ان کا تعلق جھنگ کے ایسے سیاسی حلقے سے رہا جہاں مقامی حکومت، زمینداری اور انتخابی سیاست ایک دوسرے سے جڑے ہوئے رہے ہیں۔
عملی سیاست میں آمد
محمد تیمور خان نے عملی سیاست میں قدم رکھنے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے 2018 کے عام انتخابات میں پنجاب اسمبلی کا انتخاب لڑا۔ اس وقت ان کا حلقہ PP-124 جھنگ-I تھا۔
2018 کے انتخابی نتائج میں محمد تیمور خان نے 32,143 ووٹ حاصل کیے اور PP-124 سے پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ انتخابی نتائج کے مطابق ان کے مقابلے میں سید علی اکبر نے 24,255 ووٹ حاصل کیے۔
پنجاب اسمبلی کے سرکاری سوانحی ریکارڈ میں انہیں 2018 کے عام انتخابات میں منتخب ہونے والا رکن قرار دیا گیا ہے اور ان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف درج ہے۔
پنجاب اسمبلی میں رکنیت
2018 کے عام انتخابات کے بعد محمد تیمور خان نے پنجاب اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔ وہ PP-124 جھنگ-I کی نمائندگی کرتے رہے۔ ان کی اسمبلی رکنیت 2018 سے 2023 تک رہی۔
پنجاب اسمبلی کے ریکارڈ میں 28 جولائی 2022 کے اجلاس کی حاضری میں بھی محمد تیمور خان کا نام PP-124 کے رکن کے طور پر درج ہے۔
اپنی پارلیمانی مدت کے دوران انہوں نے صوبائی قانون سازی اور اسمبلی کی کارروائی میں حصہ لیا۔ پارلیمانی ریکارڈ کے مطابق ان کے نام سے اسمبلی کی کارروائی میں مختلف نوعیت کی پارلیمانی سرگرمیاں بھی درج ہیں۔
صوبائی وزیر برائے یوتھ افیئرز اور اسپورٹس
محمد تیمور خان کی سیاسی زندگی کا ایک اہم مرحلہ 2018 میں پنجاب کابینہ میں شمولیت تھا۔ انہیں صوبائی وزیر برائے یوتھ افیئرز اور اسپورٹس مقرر کیا گیا۔
پنجاب اسمبلی کے سرکاری سوانحی ریکارڈ کے مطابق انہوں نے 2018-19 کے دوران یوتھ افیئرز اور اسپورٹس کے وزیر کی حیثیت سے کام کیا اور بعد میں یوتھ افیئرز، اسپورٹس، آثارِ قدیمہ اور سیاحت کے قلمدان بھی سنبھالے۔
سرکاری ریکارڈ میں ان کی وزارت سے متعلق مختلف ذمہ داریوں کا ذکر موجود ہے، جبکہ وفاقی حکومت کی ایک سرکاری خبر میں بھی انہیں پنجاب کے صوبائی وزیر برائے یوتھ افیئرز، اسپورٹس، آثارِ قدیمہ اور سیاحت کے طور پر بیان کیا گیا۔
نوجوانوں کے امور اور روزگار کے منصوبے
بطور صوبائی وزیر محمد تیمور خان کے ذمہ آنے والے شعبوں میں نوجوانوں کے امور بھی شامل تھے۔ ان کے دور میں پنجاب میں نوجوانوں کے لیے تربیتی اور روزگار سے متعلق پروگراموں پر توجہ دی گئی۔
فروری 2020 میں پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ، ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور یوتھ افیئرز، اسپورٹس، آرکیالوجی اینڈ ٹورازم ڈیپارٹمنٹ کے درمیان سرکاری کالجوں میں 40 نئے e-Rozgaar مراکز قائم کرنے کے لیے معاہدہ ہوا۔ پنجاب حکومت کے سرکاری پورٹل کے مطابق اس تقریب میں محمد تیمور خان بھی موجود تھے اور انہوں نے نوجوانوں کی تربیت اور انہیں روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے حوالے سے پروگرام کی اہمیت پر بات کی۔
اسی سرکاری خبر کے مطابق اس وقت e-Rozgaar پروگرام کے تحت ہزاروں طلبہ کو تربیت دی جا چکی تھی اور نئے مراکز کے ذریعے مزید نوجوانوں کو فری لانسنگ اور ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت فراہم کرنے کا منصوبہ تھا۔
کھیلوں کے شعبے میں ذمہ داریاں
محمد تیمور خان نے صوبائی وزیر کی حیثیت سے کھیلوں کے شعبے سے متعلق بھی ذمہ داریاں انجام دیں۔ ان کا محکمہ صوبے میں کھیلوں، نوجوانوں اور متعلقہ سرگرمیوں سے وابستہ تھا۔
2020 میں کووڈ-19 کے دوران کھیلوں کے شعبے پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں ہونے والے ایک سرکاری اجلاس میں محمد تیمور خان نے پنجاب کی نمائندگی کی۔ وفاقی وزارتِ بین الصوبائی رابطہ کی خبر کے مطابق اجلاس میں کھیلوں کی سرگرمیوں کی بحالی اور کورونا وبا کے اثرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ان کی وزارت کے دوران پنجاب میں کھیلوں اور نوجوانوں سے متعلق حکومتی سرگرمیوں میں ان کا انتظامی کردار بھی شامل رہا۔
آثارِ قدیمہ اور سیاحت
محمد تیمور خان کے سیاسی و انتظامی سفر میں آثارِ قدیمہ اور سیاحت کے شعبے بھی شامل رہے۔ پنجاب اسمبلی کے سرکاری ریکارڈ میں ان کے پاس Youth Affairs, Sports, Archaeology & Tourism کے قلمدان کا ذکر موجود ہے۔
ان شعبوں کے ذریعے صوبے کے تاریخی مقامات، سیاحتی مقامات، نوجوانوں کی سرگرمیوں اور کھیلوں سے متعلق حکومتی پالیسیوں پر عمل درآمد میں صوبائی سطح پر ذمہ داریاں انجام دی جاتی ہیں۔
جھنگ سمیت پنجاب کے مختلف اضلاع تاریخی اور ثقافتی اہمیت کے حامل مقامات رکھتے ہیں، اس لیے آثارِ قدیمہ اور سیاحت کا شعبہ ان کے سیاسی دور کے انتظامی کاموں کا ایک حصہ رہا۔
سرکاری و پارلیمانی سرگرمیاں
محمد تیمور خان کے دور میں مختلف سرکاری اجلاسوں میں ان کی شرکت ریکارڈ پر موجود ہے۔ دسمبر 2018 میں وفاقی سطح پر نوجوانوں کے امور سے متعلق ایک اجلاس میں وہ پنجاب کے وزیر برائے یوتھ افیئرز اور اسپورٹس کی حیثیت سے شریک ہوئے۔ اجلاس کا مقصد نوجوانوں کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی اور قومی سطح پر Youth Development Framework کے حوالے سے صوبوں کے درمیان تعاون تھا۔
اس طرح ان کی ذمہ داری صرف صوبائی اسمبلی تک محدود نہیں رہی بلکہ نوجوانوں اور کھیلوں کے شعبے سے متعلق بین الصوبائی اور وفاقی مشاورت میں بھی ان کی شرکت ریکارڈ ہوئی۔
سیاسی خاندان سے تعلق
محمد تیمور خان کے سیاسی پس منظر میں ان کے والد لیاقت حیات خان کا کردار بھی اہم ہے۔ پنجاب اسمبلی کی سرکاری سوانح کے مطابق لیاقت حیات خان 2001 سے 2008 تک دو مرتبہ ضلع کونسل جھنگ کے ناظم رہے۔
اسی وجہ سے محمد تیمور خان کی سیاسی شناخت میں جھنگ کے مقامی سیاسی نظام اور ضلع کی سطح کی عوامی نمائندگی بھی ایک اہم پہلو ہے۔
سیاسی سفر کا اختتامِ اسمبلی مدت
2018 میں منتخب ہونے والی پنجاب اسمبلی کی مدت جنوری 2023 میں ختم ہوئی۔ محمد تیمور خان بھی اس اسمبلی کے اختتام تک PP-124 جھنگ-I کے رکن رہے۔ دستیاب پارلیمانی ریکارڈ ان کی 2018-2023 کی اسمبلی رکنیت کی تصدیق کرتا ہے۔
ان کی پانچ سالہ اسمبلی مدت میں رکن صوبائی اسمبلی کی حیثیت کے ساتھ صوبائی کابینہ میں وزارت کی ذمہ داری بھی شامل رہی۔
بیرونِ ملک سفر
پنجاب اسمبلی کے سرکاری سوانحی ریکارڈ میں محمد تیمور خان کے بیرون ملک سفر کا بھی ذکر ہے۔ اس ریکارڈ کے مطابق انہوں نے سعودی عرب، چین، دبئی، برونائی، ایران اور عراق کا سفر کیا۔
مجموعی سیاسی تعارف
محمد تیمور خان جھنگ سے تعلق رکھنے والے پاکستانی سیاستدان ہیں جنہوں نے 2018 کے عام انتخابات میں PP-124 جھنگ-I سے پنجاب اسمبلی میں داخل ہو کر صوبائی سیاست میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کی سیاسی زندگی کا اہم پہلو صوبائی کابینہ میں شمولیت اور یوتھ افیئرز، اسپورٹس، آثارِ قدیمہ اور سیاحت جیسے شعبوں کی ذمہ داریاں سنبھالنا ہے۔
ان کے سیاسی سفر میں جھنگ سے انتخابی نمائندگی، نوجوانوں کے امور، کھیلوں کی سرگرمیوں، ڈیجیٹل مہارتوں کے پروگراموں اور صوبائی سطح کے سیاحتی و ثقافتی شعبوں سے متعلق حکومتی ذمہ داریاں شامل رہی ہیں۔ پنجاب اسمبلی کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق وہ زمیندار پیشے سے وابستہ رہے، 2008 میں گریجویشن مکمل کی اور 2018 میں پہلی مرتبہ پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔
کارنامے
محمد تیمور خان کے نمایاں کارنامے
* 2018 کے عام انتخابات میں PP-124 جھنگ-I سے پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور 32,143 ووٹ حاصل کیے۔
* 2018 سے 2023 تک پنجاب اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے جھنگ-I کی نمائندگی کی۔
* پنجاب حکومت میں وزیر برائے یوتھ افیئرز اور اسپورٹس کی ذمہ داری انجام دی۔
* بعد میں یوتھ افیئرز، اسپورٹس، آثارِ قدیمہ اور سیاحت کے محکموں سے متعلق صوبائی ذمہ داریاں سنبھالیں۔
* نوجوانوں کے لیے e-Rozgaar مراکز کے پھیلاؤ سے متعلق پنجاب حکومت کے پروگرام میں بطور متعلقہ صوبائی وزیر کردار ادا کیا۔
* کھیلوں کے شعبے پر کووڈ-19 کے اثرات اور کھیلوں کی بحالی سے متعلق بین الحکومتی اجلاسوں میں پنجاب کی نمائندگی کی۔
* قومی سطح پر نوجوانوں کی ترقی سے متعلق مشاورتی اجلاس میں پنجاب کے وزیر برائے یوتھ افیئرز و اسپورٹس کی حیثیت سے شرکت کی۔
* صوبائی حکومت میں آثارِ قدیمہ اور سیاحت سے متعلق محکموں کی ذمہ داریاں بھی انجام دیں۔
مشہور کام
محمد تیمور خان کے مشہور کام اور سیاسی خدمات
* PP-124 جھنگ-I سے پنجاب اسمبلی کی نمائندگی۔
* 2018 کے بعد پنجاب کابینہ میں یوتھ افیئرز اور اسپورٹس کے وزیر کی حیثیت سے خدمات۔
* یوتھ افیئرز، اسپورٹس، آثارِ قدیمہ اور سیاحت کے صوبائی محکموں سے متعلق ذمہ داریاں۔
* نوجوانوں کے لیے e-Rozgaar مراکز کے قیام اور توسیع سے متعلق حکومتی پروگرام میں شرکت۔
* کھیلوں کے شعبے کی بحالی اور کووڈ-19 کے اثرات سے متعلق بین الحکومتی اجلاسوں میں شرکت۔
* نوجوانوں کی ترقی کے لیے وفاقی و صوبائی سطح کے مشاورتی عمل میں شرکت۔
* ضلع جھنگ کی صوبائی سطح پر سیاسی نمائندگی۔
* جھنگ کے مقامی سیاسی خاندان سے تعلق رکھتے ہوئے صوبائی سیاست میں فعال کردار۔
تاریخ پیدائش
10 Jan 1988
جائے پیدائش
جھنگ، پنجاب، پاکستان پنجاب اسمبلی کے سرکاری سوانحی ریکارڈ میں ان کی جائے پیدائش جھنگ درج ہے۔