سیاستدان
سیدہ عابدہ حسین
Syeda Abida Hussain
پیدائش: 01 Jan 1948
Jhang, District Jhang, Punjab, Pakistan
تعارف
ابتدائی زندگی اور خاندانی پس منظر
سیدہ عابدہ حسین پاکستان کی ان خواتین سیاست دانوں میں شامل ہیں جنہوں نے ایک ایسے دور میں عملی سیاست میں قدم رکھا جب قومی اور صوبائی سیاست میں خواتین کی براہِ راست نمائندگی بہت محدود تھی۔ ان کا تعلق جھنگ کے ایک معروف سیاسی خاندان سے ہے۔ وہ 1948 میں جھنگ میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد سید عابد حسین شاہ خود سیاست دان تھے اور قیام پاکستان سے پہلے مرکزی قانون ساز ادارے کا حصہ رہ چکے تھے، جبکہ پاکستان بننے کے بعد وفاقی اور صوبائی سطح پر مختلف ذمہ داریاں بھی ادا کیں۔ اس خاندانی پس منظر نے عابدہ حسین کو کم عمری ہی سے سیاسی ماحول، زرعی معاملات اور جھنگ کے مقامی سماجی ڈھانچے سے قریب رکھا۔
ان کی پرورش ایسے ماحول میں ہوئی جہاں زمین داری، سیاست اور مقامی سماجی تعلقات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔ ان کے خاندان کے پاس زرعی زمین، مویشیوں اور گھوڑوں سے متعلق کاروباری و زرعی سرگرمیاں بھی تھیں۔ بعد میں خود عابدہ حسین نے بھی زراعت، گھوڑوں اور مویشیوں کی افزائش کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنایا۔ Oxford University Press کی طرف سے شائع شدہ ان کی کتاب کے تعارف میں بھی انہیں سیاست دان، agriculturist، horse and cattle breeder اور diplomat کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔
تعلیم اور بیرون ملک تربیت
عابدہ حسین نے لاہور میں Convent of Jesus and Mary سے ابتدائی تعلیم حاصل کی اور بعد میں سوئٹزرلینڈ میں بھی تعلیم حاصل کی۔ ان کی تعلیمی تربیت میں برطانوی طرز کے تعلیمی اداروں کا اثر نمایاں تھا۔ ان کی اپنی سیاسی خودنوشت میں بھی بچپن، تعلیم اور خاندان کے ماحول کو ان کی شخصیت اور بعد کے سیاسی سفر کو سمجھنے کے لیے اہم قرار دیا گیا ہے۔
ان کی تعلیم محض رسمی تعلیمی مراحل تک محدود نہیں رہی بلکہ بیرون ملک رہنے کے تجربے نے انہیں مختلف معاشروں اور سیاسی ماحول کو قریب سے دیکھنے کا موقع بھی دیا۔ یہی بین الاقوامی تجربہ بعد میں سفارتی ذمہ داریوں کے دوران ان کے لیے مفید ثابت ہوا۔
سیاست میں داخلہ
1971 میں ان کے والد سید عابد حسین شاہ کے انتقال کے بعد عابدہ حسین نے عملی سیاست میں فعال کردار اختیار کیا۔ 1970 کے انتخابات کے بعد وہ پنجاب اسمبلی کی رکن بنیں اور ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں People's Workers Programme کی چیئرپرسن بھی رہیں۔ اس مرحلے پر ان کا سیاسی سفر پاکستان پیپلز پارٹی سے وابستہ تھا۔
ابتدائی سیاسی دور میں ہی انہیں ایسے معاملات کا سامنا کرنا پڑا جن میں زرعی اصلاحات، زمین کی ملکیت اور ریاستی پالیسیوں کے بارے میں اختلافات شامل تھے۔ 1970 کی دہائی کے وسط میں صنعتوں اور زمین سے متعلق قومیانے اور اصلاحات کے معاملات پر ان کے بعض سیاسی تحفظات سامنے آئے۔ ان اختلافات نے ان کے اور پارٹی قیادت کے درمیان فاصلہ پیدا کیا اور ان کا سیاسی راستہ بتدریج تبدیل ہوتا گیا۔
جھنگ کی مقامی سیاست اور ضلع کونسل
1979 میں عابدہ حسین جھنگ کی مقامی حکومت کی سربراہ منتخب ہوئیں۔ Australian National University کے Centre for Arab & Islamic Studies اور Oxford University Press سے متعلق مواد انہیں District Council Jhang کی پہلی خاتون چیئرپرسن کے طور پر بیان کرتا ہے۔ یہ عہدہ ان کے سیاسی سفر میں ایک اہم مرحلہ تھا کیونکہ اس وقت مقامی سیاسی اداروں میں خواتین کی موجودگی بہت کم تھی۔ وہ بعد میں دوبارہ بھی اس منصب پر منتخب ہوئیں۔
جھنگ کی مقامی سیاست میں ان کی سرگرمیوں نے انہیں شہری اور دیہی سطح کے مسائل کو براہ راست سمجھنے کا موقع دیا۔ زراعت، مقامی انتظام، بنیادی سہولتوں اور دیہی معاشرت سے ان کی واقفیت پہلے ہی موجود تھی، اس لیے مقامی حکومت کا تجربہ ان کے سیاسی کردار کا اہم حصہ بن گیا۔
قومی اسمبلی میں کامیابی
1985 کے عام انتخابات عابدہ حسین کے سیاسی کیریئر کا ایک اہم موڑ ثابت ہوئے۔ ان انتخابات میں سیاسی جماعتوں نے مجموعی طور پر بائیکاٹ کیا تھا اور انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر ہوئے۔ اس ماحول میں عابدہ حسین نے جھنگ سے قومی اسمبلی کی جنرل نشست پر کامیابی حاصل کی۔ خواتین کی سیاسی نمائندگی پر ایک تحقیقی مطالعہ انہیں اس انتخاب میں جنرل نشست سے کامیاب ہونے والی نمایاں خواتین میں شمار کرتا ہے، جبکہ Oxford University Press انہیں پاکستان کی قومی اسمبلی کی جنرل نشست پر عوامی طور پر منتخب ہونے والی پہلی خاتون قرار دیتا ہے۔
یہ کامیابی اس لحاظ سے اہم تھی کہ مخصوص خواتین کی نشست کے بجائے انہوں نے براہِ راست عام انتخابی حلقے سے کامیابی حاصل کی۔ اس کے بعد ان کی سیاسی شناخت صرف جھنگ تک محدود نہ رہی بلکہ وہ قومی سیاست میں بھی نمایاں ہو گئیں۔
قومی سیاست میں مختلف جماعتوں کے ساتھ سفر
1980 اور 1990 کی دہائیوں میں عابدہ حسین کی سیاسی وابستگیاں وقت کے ساتھ تبدیل ہوتی رہیں۔ وہ Pakistan Muslim League، Islami Jamhoori Ittehad، Pakistan Muslim League (N) اور Pakistan Peoples Party سمیت مختلف سیاسی پلیٹ فارموں سے وابستہ رہیں۔ ان کی سیاسی زندگی کو کسی ایک جماعت کے ساتھ مستقل وابستگی کے بجائے مختلف ادوار میں بدلتے ہوئے سیاسی اتحادوں اور ملکی حالات کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔
1990 کے انتخابات کے بعد ان کا سیاسی کردار مزید نمایاں ہوا۔ اسی دور میں انہیں وفاقی سطح پر سفارتی ذمہ داری بھی ملی۔
امریکہ میں سفارتی ذمہ داری
1991 میں سیدہ عابدہ حسین کو امریکہ میں پاکستان کی سفیر مقرر کیا گیا۔ وہ واشنگٹن میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والی پہلی خاتون سفیر بنیں۔ ان کی سفارتی مدت کے حوالے سے مختلف ذرائع میں معمولی فرق ملتا ہے؛ Oxford University Press اور Australian National University کے مواد میں 1991 سے 1993 تک کی مدت درج ہے، جبکہ بعض دیگر حوالوں میں 1994 تک کا ذکر ملتا ہے۔ اس لیے محفوظ طور پر یہ کہنا مناسب ہے کہ انہوں نے 1991 سے 1993 کے عرصے میں امریکہ میں پاکستان کی سفیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔
یہ دور پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کے لیے حساس تھا۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات میں کئی پیچیدہ معاملات موجود تھے، جن میں پاکستان کا جوہری پروگرام اور Pressler Amendment بھی شامل تھے۔ عابدہ حسین نے بعد میں اپنی خودنوشت میں واشنگٹن میں اپنی سفارتی زندگی اور ان مذاکرات و ملاقاتوں کے تجربات کو تفصیل سے بیان کیا۔
وفاقی وزارتیں
پاکستان واپسی کے بعد عابدہ حسین نے وفاقی حکومت میں مختلف ذمہ داریاں سنبھالیں۔ Oxford University Press کے مطابق وہ 1996 میں Education, Science and Technology کی وزیر رہیں، 1997 میں Food and Agriculture کا قلمدان سنبھالا، جبکہ Population Welfare اور Environment and Urban Affairs سے متعلق ذمہ داریاں بھی انجام دیں۔
بطور Food and Agriculture Minister ان کا تعلق براہِ راست پاکستان کے زرعی شعبے اور خوراک کی پالیسی سے رہا۔ 1997 کے Senate proceedings میں انہیں وزیر خوراک و زراعت کے طور پر ایوان میں گندم کی پیداوار، سرکاری خریداری اور ملکی ضرورت پوری کرنے کے معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس سے ان کی وزارت کے عملی موضوعات کا اندازہ ہوتا ہے۔
زراعت اور دیہی معیشت سے وابستگی
عابدہ حسین کا سیاسی کردار ان کی زرعی زندگی سے الگ نہیں تھا۔ وہ خود بھی زرعی سرگرمیوں سے وابستہ رہیں اور گھوڑوں اور مویشیوں کی افزائش کے شعبے میں دلچسپی رکھتی تھیں۔ ان کے خاندان کی جھنگ میں زرعی بنیاد اور مقامی اثرورسوخ نے ان کے سیاسی سفر کو ایک مخصوص علاقائی پس منظر فراہم کیا۔
ان کی سیاست میں دیہی پنجاب، زراعت، زمین، مقامی حکومت اور دیہی آبادی کے مسائل مسلسل اہم موضوعات رہے۔ اسی وجہ سے ان کا سیاسی تجربہ شہری پارلیمانی سیاست کے ساتھ ساتھ زرعی معاشرے کے مسائل سے بھی جڑا رہا۔
سیاسی خودنوشت اور تاریخی ریکارڈ
2015 میں Oxford University Press نے ان کی سیاسی خودنوشت Power Failure: The Political Odyssey of a Pakistani Woman شائع کی۔ یہ کتاب ان کے تقریباً چار دہائیوں پر محیط سیاسی تجربات، پاکستان کی اہم سیاسی تبدیلیوں اور ان کی ذاتی زندگی پر ان واقعات کے اثرات کو بیان کرتی ہے۔ کتاب کی تیاری میں ان کے ذاتی نوٹس، ڈائریوں اور دیگر مواد سے استفادہ کیا گیا۔
کتاب میں ان کے سیاسی سفر کے ساتھ پاکستان کے مختلف ادوار کا احاطہ بھی ملتا ہے، جس میں ذوالفقار علی بھٹو کا دور، بعد کی سیاسی تبدیلیاں، افغانستان سے متعلق معاملات اور ملک میں بڑھتی ہوئی مذہبی شدت پسندی جیسے موضوعات شامل ہیں۔ یہ کتاب عابدہ حسین کی اپنی یادداشتوں اور سیاسی نقطۂ نظر پر مبنی ہے، اس لیے اس میں موجود ذاتی یا سیاسی تشریحات کو ان کی اپنی روایت کے طور پر سمجھنا زیادہ مناسب ہے، نہ کہ ہر معاملے کا غیر جانب دار تاریخی فیصلہ۔
خاندان اور بعد کی سیاسی نسل
سیدہ عابدہ حسین کی شادی سید فخر امام سے ہوئی، جو خود پاکستان کی سیاست میں اہم کردار ادا کر چکے ہیں اور قومی اسمبلی کے اسپیکر بھی رہے۔ ان کی بیٹی سیدہ صغریٰ امام نے بھی سیاست میں حصہ لیا اور پنجاب اسمبلی کی رکن رہیں۔ پنجاب اسمبلی کے سرکاری ریکارڈ میں صغریٰ امام کے تعارف کے ساتھ ان کی والدہ عابدہ حسین کی پنجاب اسمبلی، قومی اسمبلی اور وفاقی وزارتوں میں خدمات کا ذکر موجود ہے۔
اس طرح عابدہ حسین کا خاندان کئی دہائیوں تک جھنگ اور قومی سیاست کے اہم سیاسی خاندانوں میں شمار ہوتا رہا۔ تاہم ان کی اپنی سیاسی شناخت صرف خاندانی پس منظر سے نہیں بنتی؛ ان کی نمایاں حیثیت کا تعلق قومی اسمبلی کی جنرل نشست، مقامی حکومت کی قیادت، وفاقی وزارتوں اور سفارتی ذمہ داریوں سے بھی ہے۔
بعد کے برس اور سیاسی ورثہ
2000 کے بعد عابدہ حسین کی سیاسی سرگرمی پہلے کے مقابلے میں محدود رہی، اگرچہ وہ ملکی سیاست، زراعت اور قومی معاملات پر گفتگو کرتی رہیں۔ 2015 میں ان کی خودنوشت کی اشاعت نے ان کے طویل سیاسی تجربے کو تحریری شکل میں محفوظ کیا۔ 2016 میں Australian National University میں ان کی کتاب پر ہونے والی تقریب میں بھی ان کے چار دہائیوں کے سیاسی تجربے کو نمایاں کیا گیا۔
ان کی زندگی پاکستان میں خواتین کی سیاسی شرکت کی تاریخ کے ایک اہم حصے سے جڑی ہوئی ہے۔ وہ ایک ایسے دور میں قومی سیاست میں آئیں جب خواتین کے لیے عام انتخابی حلقوں سے کامیابی حاصل کرنا غیر معمولی امر تھا۔ ان کی سیاسی زندگی میں مقامی حکومت، پارلیمانی سیاست، سفارت کاری، وفاقی وزارت اور زرعی سرگرمیوں کے مختلف پہلو اکٹھے نظر آتے ہیں۔
سیدہ عابدہ حسین کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے ان کے پورے سفر کو پاکستان کی سیاسی تاریخ، جھنگ کے علاقائی سیاسی ڈھانچے اور خواتین کی پارلیمانی نمائندگی کے ارتقا کے ساتھ دیکھنا ضروری ہے۔ ان کی سفارتی ذمہ داری نے انہیں خارجہ امور کے میدان میں بھی شناخت دی، جبکہ ان کی خودنوشت نے پاکستان کی سیاسی تاریخ کے کئی ادوار کو ایک ایسے سیاست دان کی نظر سے محفوظ کیا جو خود ان واقعات کا حصہ رہی تھیں۔
کارنامے
• جھنگ کی District Council کی پہلی خاتون چیئرپرسن بنیں۔
• 1985 کے عام انتخابات میں جھنگ سے قومی اسمبلی کی جنرل نشست پر کامیابی حاصل کی؛ Oxford University Press کے مطابق وہ پاکستان میں عوامی طور پر جنرل نشست سے منتخب ہونے والی پہلی خاتون تھیں۔
• 1991 سے 1993 کے دوران امریکہ میں پاکستان کی سفیر کے طور پر خدمات انجام دیں اور پاکستان کی پہلی خاتون امریکی سفیر بنیں۔
• وفاقی حکومت میں Education, Science and Technology، Food and Agriculture، Population Welfare اور Environment and Urban Affairs سے متعلق وزارتی ذمہ داریاں انجام دیں۔
• 1997 میں بطور وفاقی وزیر خوراک و زراعت پارلیمانی کارروائی میں گندم کی پیداوار، سرکاری خریداری اور خوراک کی ضروریات سے متعلق معاملات پر حکومت کی نمائندگی کی۔
• اپنی سیاسی خودنوشت Power Failure کے ذریعے پاکستان کی تقریباً چار دہائیوں کی سیاسی زندگی کے متعدد اہم واقعات اور اپنے ذاتی سیاسی تجربات کو تحریری شکل دی۔
• خواتین کی سیاسی شرکت، Education for All اور سماجی ہم آہنگی جیسے موضوعات کو اپنی عوامی سرگرمیوں اور تحریری کام میں جگہ دی۔
• 1985 کے عام انتخابات میں جھنگ سے قومی اسمبلی کی جنرل نشست پر کامیابی حاصل کی؛ Oxford University Press کے مطابق وہ پاکستان میں عوامی طور پر جنرل نشست سے منتخب ہونے والی پہلی خاتون تھیں۔
• 1991 سے 1993 کے دوران امریکہ میں پاکستان کی سفیر کے طور پر خدمات انجام دیں اور پاکستان کی پہلی خاتون امریکی سفیر بنیں۔
• وفاقی حکومت میں Education, Science and Technology، Food and Agriculture، Population Welfare اور Environment and Urban Affairs سے متعلق وزارتی ذمہ داریاں انجام دیں۔
• 1997 میں بطور وفاقی وزیر خوراک و زراعت پارلیمانی کارروائی میں گندم کی پیداوار، سرکاری خریداری اور خوراک کی ضروریات سے متعلق معاملات پر حکومت کی نمائندگی کی۔
• اپنی سیاسی خودنوشت Power Failure کے ذریعے پاکستان کی تقریباً چار دہائیوں کی سیاسی زندگی کے متعدد اہم واقعات اور اپنے ذاتی سیاسی تجربات کو تحریری شکل دی۔
• خواتین کی سیاسی شرکت، Education for All اور سماجی ہم آہنگی جیسے موضوعات کو اپنی عوامی سرگرمیوں اور تحریری کام میں جگہ دی۔
مشہور کام
• Power Failure: The Political Odyssey of a Pakistani Woman — 2015 میں Oxford University Press سے شائع ہونے والی سیاسی خودنوشت۔
• جھنگ کی District Council کی قیادت — مقامی حکومت میں ان کا نمایاں سیاسی کردار اور پہلی خاتون چیئرپرسن کی حیثیت۔
• قومی اسمبلی کی جنرل نشست سے انتخاب — 1985 میں جھنگ سے براہِ راست انتخابی کامیابی۔
• امریکہ میں پاکستان کی سفارت کاری — 1991 سے 1993 کے دوران بطور سفیر خدمات۔
• وفاقی وزارت خوراک و زراعت — پاکستان کے زرعی اور غذائی پالیسی معاملات میں حکومتی ذمہ داری۔
• وفاقی سطح پر Education, Science and Technology، Population Welfare اور Environment and Urban Affairs سے متعلق خدمات۔
• جھنگ کی District Council کی قیادت — مقامی حکومت میں ان کا نمایاں سیاسی کردار اور پہلی خاتون چیئرپرسن کی حیثیت۔
• قومی اسمبلی کی جنرل نشست سے انتخاب — 1985 میں جھنگ سے براہِ راست انتخابی کامیابی۔
• امریکہ میں پاکستان کی سفارت کاری — 1991 سے 1993 کے دوران بطور سفیر خدمات۔
• وفاقی وزارت خوراک و زراعت — پاکستان کے زرعی اور غذائی پالیسی معاملات میں حکومتی ذمہ داری۔
• وفاقی سطح پر Education, Science and Technology، Population Welfare اور Environment and Urban Affairs سے متعلق خدمات۔
تاریخ پیدائش
01 Jan 1948
جائے پیدائش
Jhang, District Jhang, Punjab, Pakistan