Wednesday, October 28, 2026
FB
غزل

اگرچہ میں اک چٹان سا آدمی رہا ہوں

اگرچہ میں اک چٹان سا آدمی رہا ہوں
مگر ترے بعد حوصلہ ہے کہ جی رہا ہوں
وہ ریزہ ریزہ مرے بدن میں اتر رہا ہے
میں قطرہ قطرہ اسی کی آنکھوں کو پی رہا ہوں
تری ہتھیلی پہ کس نے لکھا ہے قتل میرا
مجھے تو لگتا ہے میں ترا دوست بھی رہا ہوں
کھلی ہیں آنکھیں مگر بدن ہے تمام پتھر
کوئی بتائے میں مر چکا ہوں کہ جی رہا ہوں
کہاں ملے گی مثال میری ستم گری کی
کہ میں گلابوں کے زخم کانٹوں سے سی رہا ہوں
نہ پوچھ مجھ سے کہ شہر والوں کا حال کیا تھا
کہ میں تو خود اپنے گھر میں بھی دو گھڑی رہا ہوں
ملا تو بیتے دنوں کا سچ اس کی آنکھ میں تھا
وہ آشنا جس سے مدتوں اجنبی رہا ہوں
بھلا دے مجھ کو کہ بے وفائی بجا ہے لیکن
گنوا نہ مجھ کو کہ میں تری زندگی رہا ہوں
وہ اجنبی بن کے اب ملے بھی تو کیا ہے محسنؔ
یہ ناز کم ہے کہ میں بھی اس کا کبھی رہا ہوں
32 ویوز 12 Sep 2026 غزل