Monday, October 26, 2026
FB
نظم

تمہیں کیا

تمہیں کیا
زندگی جیسی بھی ہے
تم نے اس کے ہر ادا سے رنگ کی موجیں نچوڑی ہیں
تمہیں تو ٹوٹ کر چاہا گیا چہروں کے میلے میں
محبت کی شفق برسی تمہارے خال و خد پر
آئنے چمکے تمہاری دید سے
خوشبو تمہارے پیرہن کی ہر شکن سے
اذن لے کر ہر طرف وحشت لٹاتی تھی
تمہارے چاہنے والوں کے جھرمٹ میں
سبھی آنکھیں تمہارے عارض و لب کی کنیزیں تھیں
تمہیں کیا
تم نے ہر موسم کی شہ رگ میں انڈیلے ذائقے اپنے
تمہیں کیا
تم نے کب سوچا
کہ چہروں سے اٹی دنیا میں تنہا سانس لیتی
ہانپتی راتوں کے بے گھر ہم سفر
کتنی مشقت سے گریبان سحر کے چاک سیتے ہیں
تمہیں کیا
تم نے کب سوچا
کہ تنہائی کے جنگل میں
سیہ لمحوں کی چبھتی کرچیوں سے کون کھیلا ہے
تمہیں کیا
تم نے کب سوچا
کہ چہروں سے اٹی دنیا میں
کس کا دل اکیلا ہے
35 ویوز 12 Sep 2026 نظم