تمہیں کیا
زندگی جیسی بھی ہے
تم نے اس کے ہر ادا سے رنگ کی موجیں نچوڑی ہیں
تمہیں تو ٹوٹ کر چاہا گیا چہروں کے میلے میں
محبت کی شفق برسی تمہارے خال و خد پر
آئنے چمکے تمہاری دید سے
خوشبو تمہارے پیرہن کی ہر شکن سے
اذن لے کر ہر طرف وحشت لٹاتی تھی
تمہارے چاہنے والوں کے جھرمٹ میں
سبھی آنکھیں تمہارے عارض و لب کی کنیزیں تھیں
تمہیں کیا
تم نے ہر موسم کی شہ رگ میں انڈیلے ذائقے اپنے
تمہیں کیا
تم نے کب سوچا
کہ چہروں سے اٹی دنیا میں تنہا سانس لیتی
ہانپتی راتوں کے بے گھر ہم سفر
کتنی مشقت سے گریبان سحر کے چاک سیتے ہیں
تمہیں کیا
تم نے کب سوچا
کہ تنہائی کے جنگل میں
سیہ لمحوں کی چبھتی کرچیوں سے کون کھیلا ہے
تمہیں کیا
تم نے کب سوچا
کہ چہروں سے اٹی دنیا میں
کس کا دل اکیلا ہے
محسن نقوی کی مزید شاعری
نظم
یہ پچھلے عشق کی باتیں ہیں
یہ پچھلے عشق کی باتیں ہیں
جب آنکھ میں خواب دمکتے تھے
جب دلوں میں داغ چمکتے تھے
نظم
جب آنکھ میں خواب دمکتے تھے
جب دلوں میں داغ چمکتے تھے
مری اداسی کا زرد موسم
مری اداسی کا زرد موسم
اگر کسی دن
مری بجھی آنکھ کے کنارے
غزل
اگر کسی دن
مری بجھی آنکھ کے کنارے
وہ دلاور جو سیہ شب کے شکاری نکلے
وہ دلاور جو سیہ شب کے شکاری نکلے
وہ بھی چڑھتے ہوئے سورج کے پجاری نکلے
سب کے ہونٹوں پہ مرے بعد ہیں باتیں میری
شعر
وہ بھی چڑھتے ہوئے سورج کے پجاری نکلے
سب کے ہونٹوں پہ مرے بعد ہیں باتیں میری
اب تک مری یادوں سے مٹائے نہیں مٹتا
اب تک مری یادوں سے مٹائے نہیں مٹتا
بھیگی ہوئی اک شام کا منظر تری آنکھیں
غزل
بھیگی ہوئی اک شام کا منظر تری آنکھیں
عجیب خوف مسلط تھا کل حویلی پر
عجیب خوف مسلط تھا کل حویلی پر
لہو چراغ جلاتی رہی ہتھیلی پر
سنے گا کون مگر احتجاج خوشبو کا
غزل
لہو چراغ جلاتی رہی ہتھیلی پر
سنے گا کون مگر احتجاج خوشبو کا
آپ کی آنکھ سے گہرا ہے مری روح کا زخم
آپ کی آنکھ سے گہرا ہے مری روح کا زخم
آپ کیا سوچ سکیں گے مری تنہائی کو
میں تو دم توڑ رہا تھا مگر افسردہ حیات
آپ کیا سوچ سکیں گے مری تنہائی کو
میں تو دم توڑ رہا تھا مگر افسردہ حیات