بچھڑنے والے بھلا کس طرح بتاؤں تمہیں
تمہارے بعد جچی ہے جو سادگی مجھ پر
راکب مختار کی مزید شاعری
شعر
وہ بادشاہ مولا علی ع کا غلام تھا
وہ بادشاہ مولا علی ع کا غلام تھا
خیرات کی جگہ مرے کاسے میں تاج ہے
رباعی
خیرات کی جگہ مرے کاسے میں تاج ہے
اے دوست احتیاط برت صرف احتیاط
اے دوست احتیاط برت صرف احتیاط
ویسے منافقت کا مرض لا علاج ہے
وہ بادشاہ مولا علی کا غلام تھا
غزل
ویسے منافقت کا مرض لا علاج ہے
وہ بادشاہ مولا علی کا غلام تھا
درون ٍ قلب کہیں دشت ٍ کربلا کوئی ہے
درون ٍ قلب کہیں دشت ٍ کربلا کوئی ہے
جو اپنی آنکھوں میں اشکوں کا سلسلہ کوئی ہے
امام سجدے میں تھے اور سارے نبیوں سے
غزل
جو اپنی آنکھوں میں اشکوں کا سلسلہ کوئی ہے
امام سجدے میں تھے اور سارے نبیوں سے
تیرا کیا ہے دیکھنے کا جب بہانہ بن گیا
تیرا کیا ہے دیکھنے کا جب بہانہ بن گیا
دھڑکنوں سے مالا مال اک دل نشانہ بن گیا
میرے بچے لفظ کی خیرات سے پلنے لگے
رباعی
دھڑکنوں سے مالا مال اک دل نشانہ بن گیا
میرے بچے لفظ کی خیرات سے پلنے لگے
سیدانیوں نے گھر سے جو باہر قدم رکھے
سیدانیوں نے گھر سے جو باہر قدم رکھے
عباس کے جگر پہ تھے مٹی پہ کم رکھے
دشمن جسے ڈرانے کو آتا ہے خواب میں
غزل
عباس کے جگر پہ تھے مٹی پہ کم رکھے
دشمن جسے ڈرانے کو آتا ہے خواب میں
خوف خسارہ مجھ کو نہ کل تھا نہ آج ہے
خوف خسارہ مجھ کو نہ کل تھا نہ آج ہے
بس دل پہ ایک راج کماری کا راج ہے
اے دوست احتیاط برت صرف احتیاط
بس دل پہ ایک راج کماری کا راج ہے
اے دوست احتیاط برت صرف احتیاط