بچھڑنے والے بھلا کس طرح بتاؤں تمہیں
تمہارے بعد جچی ہے جو سادگی مجھ پر
راکب مختار کی مزید شاعری
غزل
سبزہ اگے نہ پھول کھلیں کچھ نیا نہ ہو
سبزہ اگے نہ پھول کھلیں کچھ نیا نہ ہو
اللہ کی زمیں پہ اگر کربلا نہ ہو
غازی سا باوفا ہو اگر سب کا پیشوا
رباعی
اللہ کی زمیں پہ اگر کربلا نہ ہو
غازی سا باوفا ہو اگر سب کا پیشوا
اے دوست احتیاط برت صرف احتیاط
اے دوست احتیاط برت صرف احتیاط
ویسے منافقت کا مرض لا علاج ہے
وہ بادشاہ مولا علی کا غلام تھا
غزل
ویسے منافقت کا مرض لا علاج ہے
وہ بادشاہ مولا علی کا غلام تھا
تیرا کیا ہے دیکھنے کا جب بہانہ بن گیا
تیرا کیا ہے دیکھنے کا جب بہانہ بن گیا
دھڑکنوں سے مالا مال اک دل نشانہ بن گیا
میرے بچے لفظ کی خیرات سے پلنے لگے
شعر
دھڑکنوں سے مالا مال اک دل نشانہ بن گیا
میرے بچے لفظ کی خیرات سے پلنے لگے
اب تو آیا یقیں کہ بیٹی کو
اب تو آیا یقیں کہ بیٹی کو
لوگ کیوں مسئلہ سمجھتے ہیں
غزل
لوگ کیوں مسئلہ سمجھتے ہیں
خوف خسارہ مجھ کو نہ کل تھا نہ آج ہے
خوف خسارہ مجھ کو نہ کل تھا نہ آج ہے
بس دل پہ ایک راج کماری کا راج ہے
اے دوست احتیاط برت صرف احتیاط
شعر
بس دل پہ ایک راج کماری کا راج ہے
اے دوست احتیاط برت صرف احتیاط
پھول دے کر اسے کہنا کہ بدن کٹتے ہیں
پھول دے کر اسے کہنا کہ بدن کٹتے ہیں
پھول جھڑتے نہیں چلتی ہوئی تلواروں سے
پھول جھڑتے نہیں چلتی ہوئی تلواروں سے