پھول دے کر اسے کہنا کہ بدن کٹتے ہیں
پھول جھڑتے نہیں چلتی ہوئی تلواروں سے
راکب مختار کی مزید شاعری
رباعی
سیدانیوں نے گھر سے جو باہر قدم رکھے
سیدانیوں نے گھر سے جو باہر قدم رکھے
عباس کے جگر پہ تھے مٹی پہ کم رکھے
دشمن جسے ڈرانے کو آتا ہے خواب میں
شعر
عباس کے جگر پہ تھے مٹی پہ کم رکھے
دشمن جسے ڈرانے کو آتا ہے خواب میں
نہیں نہیں وہ فقط گردن حسین نہ تھی
نہیں نہیں وہ فقط گردن حسین نہ تھی
نبی کے بوسے بھی کاٹے ہیں تیرے خنجر نے
غزل
نبی کے بوسے بھی کاٹے ہیں تیرے خنجر نے
سبزہ اگے نہ پھول کھلیں کچھ نیا نہ ہو
سبزہ اگے نہ پھول کھلیں کچھ نیا نہ ہو
اللہ کی زمیں پہ اگر کربلا نہ ہو
غازی سا باوفا ہو اگر سب کا پیشوا
شعر
اللہ کی زمیں پہ اگر کربلا نہ ہو
غازی سا باوفا ہو اگر سب کا پیشوا
دل سا مصرع ہے مرے ذہن میں کہنے دیجے
دل سا مصرع ہے مرے ذہن میں کہنے دیجے
"یا حسین آپ کے انکار پہ پیار آتا ہے"
غزل
"یا حسین آپ کے انکار پہ پیار آتا ہے"
ہم ہیں وہ لوگ جو آنکھیں بھی نہیں کھو سکتے
ہم ہیں وہ لوگ جو آنکھیں بھی نہیں کھو سکتے
یا حسین ع آپ کے اکبر ع کو نہیں رو سکتے
دکھ ہی ایسا ہے کہ عاشور کی شب گلیوں میں
غزل
یا حسین ع آپ کے اکبر ع کو نہیں رو سکتے
دکھ ہی ایسا ہے کہ عاشور کی شب گلیوں میں
یہ خواہش ہے تحمل سے پڑھوں نہج البلاغہ کو
یہ خواہش ہے تحمل سے پڑھوں نہج البلاغہ کو
مری مٹھی میں آئیں دو جہاں آہستہ آہستہ
علی کے نام پر لہجے کی تیزی مت دکھا ورنہ
مری مٹھی میں آئیں دو جہاں آہستہ آہستہ
علی کے نام پر لہجے کی تیزی مت دکھا ورنہ