چنتی ہیں میرے اشک رتوں کی بھکارنیں
محسنؔ لٹا رہا ہوں سر عام چاندنی
محسن نقوی کی مزید شاعری
نظم
مرے لیے کون سوچتا ہے
مرے لیے کون سوچتا ہے
جدا جدا ہیں مرے قبیلے کے لوگ سارے
جدا جدا سب کی صورتیں ہیں
شعر
جدا جدا ہیں مرے قبیلے کے لوگ سارے
جدا جدا سب کی صورتیں ہیں
گہری خموش جھیل کے پانی کو یوں نہ چھیڑ
گہری خموش جھیل کے پانی کو یوں نہ چھیڑ
چھینٹے اڑے تو تیری قبا پر بھی آئیں گے
نظم
چھینٹے اڑے تو تیری قبا پر بھی آئیں گے
یہ پچھلے عشق کی باتیں ہیں
یہ پچھلے عشق کی باتیں ہیں
جب آنکھ میں خواب دمکتے تھے
جب دلوں میں داغ چمکتے تھے
غزل
جب آنکھ میں خواب دمکتے تھے
جب دلوں میں داغ چمکتے تھے
فضا کا حبس شگوفوں کو باس کیا دے گا
فضا کا حبس شگوفوں کو باس کیا دے گا
بدن دریدہ کسی کو لباس کیا دے گا
یہ دل کہ قحط انا سے غریب ٹھہرا ہے
شعر
بدن دریدہ کسی کو لباس کیا دے گا
یہ دل کہ قحط انا سے غریب ٹھہرا ہے
کاش کوئی ہم سے بھی پوچھے
کاش کوئی ہم سے بھی پوچھے
رات گئے تک کیوں جاگے ہو
شعر
رات گئے تک کیوں جاگے ہو
ہر وقت کا ہنسنا تجھے برباد نہ کر دے
ہر وقت کا ہنسنا تجھے برباد نہ کر دے
تنہائی کے لمحوں میں کبھی رو بھی لیا کر
تنہائی کے لمحوں میں کبھی رو بھی لیا کر