کاش کوئی ہم سے بھی پوچھے
رات گئے تک کیوں جاگے ہو
محسن نقوی کی مزید شاعری
شعر
یہ میرے دل کی ہوس دشت بے کراں جیسی
یہ میرے دل کی ہوس دشت بے کراں جیسی
وہ تیری آنکھ کے تیور سمندروں والے
شعر
وہ تیری آنکھ کے تیور سمندروں والے
وہ مجھ سے بڑھ کے ضبط کا عادی تھا جی گیا
وہ مجھ سے بڑھ کے ضبط کا عادی تھا جی گیا
ورنہ ہر ایک سانس قیامت اسے بھی تھی
نظم
ورنہ ہر ایک سانس قیامت اسے بھی تھی
کئی سال گزرے
کئی سال گزرے
کئی سال بیتے
شب و روز کی گردشوں کا تسلسل
غزل
کئی سال بیتے
شب و روز کی گردشوں کا تسلسل
یہ کہہ گئے ہیں مسافر لٹے گھروں والے
یہ کہہ گئے ہیں مسافر لٹے گھروں والے
ڈریں ہوا سے پرندے کھلے پروں والے
یہ میرے دل کی ہوس دشت بے کراں جیسی
غزل
ڈریں ہوا سے پرندے کھلے پروں والے
یہ میرے دل کی ہوس دشت بے کراں جیسی
یہ دل یہ پاگل دل مرا کیوں بجھ گیا آوارگی
یہ دل یہ پاگل دل مرا کیوں بجھ گیا آوارگی
اس دشت میں اک شہر تھا وہ کیا ہوا آوارگی
کل شب مجھے بے شکل کی آواز نے چونکا دیا
شعر
اس دشت میں اک شہر تھا وہ کیا ہوا آوارگی
کل شب مجھے بے شکل کی آواز نے چونکا دیا
زباں رکھتا ہوں لیکن چپ کھڑا ہوں
زباں رکھتا ہوں لیکن چپ کھڑا ہوں
میں آوازوں کے بن میں گھر گیا ہوں
میں آوازوں کے بن میں گھر گیا ہوں