دشت ہستی میں شب غم کی سحر کرنے کو
ہجر والوں نے لیا رخت سفر سناٹا
محسن نقوی کی مزید شاعری
نظم
بہت دنوں بعد
بہت دنوں بعد
تیرے خط کے اداس لفظوں نے
تیری چاہت کے ذائقوں کی تمام خوشبو
شعر
تیرے خط کے اداس لفظوں نے
تیری چاہت کے ذائقوں کی تمام خوشبو
وہ لمحہ بھر کی کہانی کہ عمر بھر میں کہی
وہ لمحہ بھر کی کہانی کہ عمر بھر میں کہی
ابھی تو خود سے تقاضے تھے اختصار کے بھی
غزل
ابھی تو خود سے تقاضے تھے اختصار کے بھی
میں چپ رہا کہ زہر یہی مجھ کو راس تھا
میں چپ رہا کہ زہر یہی مجھ کو راس تھا
وہ سنگ لفظ پھینک کے کتنا اداس تھا
اکثر مری قبا پہ ہنسی آ گئی جسے
شعر
وہ سنگ لفظ پھینک کے کتنا اداس تھا
اکثر مری قبا پہ ہنسی آ گئی جسے
یوں دیکھتے رہنا اسے اچھا نہیں محسنؔ
یوں دیکھتے رہنا اسے اچھا نہیں محسنؔ
وہ کانچ کا پیکر ہے تو پتھر تری آنکھیں
غزل
وہ کانچ کا پیکر ہے تو پتھر تری آنکھیں
عذاب دید میں آنکھیں لہو لہو کر کے
عذاب دید میں آنکھیں لہو لہو کر کے
میں شرمسار ہوا تیری جستجو کر کے
کھنڈر کی تہ سے بریدہ بدن سروں کے سوا
غزل
میں شرمسار ہوا تیری جستجو کر کے
کھنڈر کی تہ سے بریدہ بدن سروں کے سوا
ترے بدن سے جو چھو کر ادھر بھی آتا ہے
ترے بدن سے جو چھو کر ادھر بھی آتا ہے
مثال رنگ وہ جھونکا نظر بھی آتا ہے
تمام شب جہاں جلتا ہے اک اداس دیا
مثال رنگ وہ جھونکا نظر بھی آتا ہے
تمام شب جہاں جلتا ہے اک اداس دیا