Monday, October 26, 2026
FB
نظم

بہت دنوں بعد

بہت دنوں بعد
تیرے خط کے اداس لفظوں نے
تیری چاہت کے ذائقوں کی تمام خوشبو
مری رگوں میں انڈیل دی ہے
بہت دنوں بعد
تیری باتیں
تری ملاقات کی دھنک سے دہکتی راتیں
اجاڑ آنکھوں کے پیاس پاتال کی تہوں میں
وصال‌ وعدوں کی چند چنگاریوں کو سانسوں کی آنچ دے کر
شریر شعلوں کی سرکشی کے تمام تیور
سکھا گئی ہیں
ترے مہکتے مہین لفظوں کی آبشاریں
بہت دنوں بعد پھر سے
مجھ کو رلا گئی ہیں
بہت دنوں بعد
میں نے سوچا تو یاد آیا
کہ میرے اندر کی راکھ کے ڈھیر پر ابھی تک
ترے زمانے لکھے ہوئے ہیں
سبھی فسانے لکھے ہوئے ہیں
بہت دنوں بعد
میں نے سوچا تو یاد آیا
کہ تیری یادوں کی کرچیاں
مجھ سے کھو گئی ہیں
ترے بدن کی تمام خوشبو
بکھر گئی ہے
ترے زمانے کی چاہتیں
سب نشانیاں
سب شرارتیں
سب حکایتیں سب شکایتیں جو کبھی ہنر میں
خیال تھیں خواب ہو گئی ہیں
بہت دنوں بعد
میں نے سوچا تو یاد آیا
کہ میں بھی کتنا بدل گیا ہوں
بچھڑ کے تجھ سے
کئی لکیروں میں ڈھل گیا ہوں
میں اپنے سگریٹ کے بے ارادہ دھوئیں کی صورت
ہوا میں تحلیل ہو گیا ہوں
نہ ڈھونڈھ میری وفا کے نقش قدم کے ریزے
کہ میں تو تیری تلاش کے بے کنار صحرا میں
وہم کے بے اماں بگولوں کے وار سہہ کر
اداس رہ کر
نہ جانے کس رہ میں کھو گیا ہوں
بچھڑ کے تجھ سے تری طرح کیا بتاؤں میں بھی
نہ جانے کس کس کا ہو گیا ہوں
بہت دنوں بعد
میں نے سوچا تو یاد آیا
31 ویوز 12 Sep 2026 نظم

محسن نقوی کی مزید شاعری