ڈوبتا صاف نظر آیا کنارہ کوئی دوست
پھر بھی کشتی سے نہیں ہم نے اتارا کوئی دوست
جب بھی نیکی کا کوئی کام کیا ہے ہم نے
دے دیا رب نے ہمیں آپ سے پیارا کوئی دوست
جیت پر خوش ہو تجھے اس سے غرض کیا مرے یار
تیری خوشیوں کے لئے جان سے ہارا کوئی دوست
کیسے جی پائیں گے اس شہر پریشاں میں جہاں
کوئی دشمن ہے ہمارا نہ ہمارا کوئی دوست
کچھ تو جینے کے لئے ہم کو بھی دے رب کریم
ساغر و مینا کسی غم کا سہارا کوئی دوست
روٹھ جائے مری آنکھوں سے بھلے بینائی
کاش روٹھے نہ وصیؔ آنکھ کا تارا کوئی دوست
وصی شاہ کی مزید شاعری
غزل
تیری جانب اگر چلے ہوتے
تیری جانب اگر چلے ہوتے
ہم نہ یوں در بدر ہوئے ہوتے
ساری دنیا ہے میری مٹھی میں
غزل
ہم نہ یوں در بدر ہوئے ہوتے
ساری دنیا ہے میری مٹھی میں
آج ہمیں یہ بات سمجھ میں آئی ہے
آج ہمیں یہ بات سمجھ میں آئی ہے
تم موسم ہو اور موسم ہرجائی ہے
تو نے کیسے موڑ پہ چھوڑ دیا مجھ کو
غزل
تم موسم ہو اور موسم ہرجائی ہے
تو نے کیسے موڑ پہ چھوڑ دیا مجھ کو
غم کی اس سل کو کبھی بھی نہ سمجھ پائے گی
غم کی اس سل کو کبھی بھی نہ سمجھ پائے گی
تو مرے دل کو کبھی بھی نہ سمجھ پائے گی
مجھ کو تسلیم تری ساری ذہانت لیکن
غزل
تو مرے دل کو کبھی بھی نہ سمجھ پائے گی
مجھ کو تسلیم تری ساری ذہانت لیکن
تو میں بھی خوش ہوں کوئی اس سے جا کے کہہ دینا
تو میں بھی خوش ہوں کوئی اس سے جا کے کہہ دینا
اگر وہ خوش ہے مجھے بے قرار کرتے ہوئے
تمہیں خبر ہی نہیں ہے کہ کوئی ٹوٹ گیا
غزل
اگر وہ خوش ہے مجھے بے قرار کرتے ہوئے
تمہیں خبر ہی نہیں ہے کہ کوئی ٹوٹ گیا
فلک پہ چاند کے ہالے بھی سوگ کرتے ہیں
فلک پہ چاند کے ہالے بھی سوگ کرتے ہیں
جو تو نہیں تو اجالے بھی سوگ کرتے ہیں
تمہارے ہاتھ کی چوڑی بھی بین کرتی ہے
غزل
جو تو نہیں تو اجالے بھی سوگ کرتے ہیں
تمہارے ہاتھ کی چوڑی بھی بین کرتی ہے
ترے گلے میں جو بانہوں کو ڈال رکھتے ہیں
ترے گلے میں جو بانہوں کو ڈال رکھتے ہیں
تجھے منانے کا کیسا کمال رکھتے ہیں
تجھے خبر ہے تجھے سوچنے کی خاطر ہم
تجھے منانے کا کیسا کمال رکھتے ہیں
تجھے خبر ہے تجھے سوچنے کی خاطر ہم