Wednesday, October 28, 2026
FB
غزل

آج ہمیں یہ بات سمجھ میں آئی ہے

آج ہمیں یہ بات سمجھ میں آئی ہے
تم موسم ہو اور موسم ہرجائی ہے
تو نے کیسے موڑ پہ چھوڑ دیا مجھ کو
دل کی بات چھپاؤں تو رسوائی ہے
تیرے بعد بچا ہے کیا جیون میں مرے
میں ہوں بھیگی شام ہے اور تنہائی ہے
آج مری آنکھوں میں ساون اترے گا
آج بہت دن بعد تری یاد آئی ہے
آج کی رات بہت بھاری ہے دونوں پر
آج مجھے وہ خط لوٹانے آئی ہے
جانے میں کیا سوچ کے چپ ہوں گم صم ہوں
جانے کیا وہ سوچ کے واپس آئی ہے
یہ مہمان نوازی ہے یا اور ہے کچھ
میرے لیے وہ چائے بنا کے لائی ہے
آج ہمیں یہ بات سمجھ میں آئی ہے
تم موسم ہو اور موسم ہرجائی ہے
34 ویوز 13 Sep 2026 غزل

وصی شاہ کی مزید شاعری

غزل

اس کی آنکھوں میں محبت کا ستارہ ہوگا

اس کی آنکھوں میں محبت کا ستارہ ہوگا
ایک دن آئے گا وہ شخص ہمارا ہوگا
زندگی اب کے مرا نام نہ شامل کرنا
غزل

کیسا مفتوح سا منظر ہے کئی صدیوں سے

کیسا مفتوح سا منظر ہے کئی صدیوں سے
میرے قدموں پہ مرا سر ہے کئی صدیوں سے
خوف رہتا ہے نہ سیلاب کہیں لے جائے
غزل

بھول سکتا ہے انہیں کوئی بھی ایسے کیسے

بھول سکتا ہے انہیں کوئی بھی ایسے کیسے
رفتگاں دل میں بسا کرتے ہیں کیسے کیسے
جان لے کر بھی اگر خوش نہیں ہونے والا
غزل

کس قدر ظلم ڈھایا کرتے تھے

کس قدر ظلم ڈھایا کرتے تھے
یہ جو تم بھول جایا کرتے تھے
کس کا اب ہاتھ رکھ کے سینے پر
غزل

یہ جو چہرے سے تمہیں لگتے ہیں بیمار سے ہم

یہ جو چہرے سے تمہیں لگتے ہیں بیمار سے ہم
خوب روئے ہیں لپٹ کر در و دیوار سے ہم
یار کی آنکھ میں نفرت نے ہمیں مار دیا
غزل

میں ہوں ترا خیال ہے اور چاند رات ہے

میں ہوں ترا خیال ہے اور چاند رات ہے
دل درد سے نڈھال ہے اور چاند رات ہے
آنکھوں میں چبھ گئیں تری یادوں کی کرچیاں