Wednesday, October 28, 2026
FB
غزل

فن میں یہ معجزہ بھی پیدا کر

فن میں یہ معجزہ بھی پیدا کر
پتھروں سے بشر تراشا کر
کب سے اپنی تلاش میں گم ہوں
اے خدا مجھ کو مجھ پہ افشا کر
اس پہ اب انگلیاں اٹھاتا ہوں
جس کو مانگا تھا ہاتھ پھیلا کر
ایک تنہا شجر نے مجھ سے کہا
میرے سائے میں روز بیٹھا کر
جل چکا شہر مر چکے باسی
اب بجھی راکھ ہی کریدا کر
عمر بھر مجھ پہ برف برسی ہے
دشت کی دھوپ مجھ پہ سایا کر
درد کی رت ہے رنگ پر محسنؔ
شہر در شہر زخم بیچا کر
32 ویوز 12 Sep 2026 غزل

محسن نقوی کی مزید شاعری