فن میں یہ معجزہ بھی پیدا کر
پتھروں سے بشر تراشا کر
کب سے اپنی تلاش میں گم ہوں
اے خدا مجھ کو مجھ پہ افشا کر
اس پہ اب انگلیاں اٹھاتا ہوں
جس کو مانگا تھا ہاتھ پھیلا کر
ایک تنہا شجر نے مجھ سے کہا
میرے سائے میں روز بیٹھا کر
جل چکا شہر مر چکے باسی
اب بجھی راکھ ہی کریدا کر
عمر بھر مجھ پہ برف برسی ہے
دشت کی دھوپ مجھ پہ سایا کر
درد کی رت ہے رنگ پر محسنؔ
شہر در شہر زخم بیچا کر
محسن نقوی کی مزید شاعری
نظم
یہ تیری جھیل سی آنکھوں میں رتجگوں کے بھنور
یہ تیری جھیل سی آنکھوں میں رتجگوں کے بھنور
یہ تیرے پھول سے چہرے پہ چاندنی کی پھوار
یہ تیرے لب یہ دیار یمن کے سرخ عقیق
غزل
یہ تیرے پھول سے چہرے پہ چاندنی کی پھوار
یہ تیرے لب یہ دیار یمن کے سرخ عقیق
ہم جو پہنچے سر مقتل تو یہ منظر دیکھا
ہم جو پہنچے سر مقتل تو یہ منظر دیکھا
سب سے اونچا تھا جو سر نوک سناں پر دیکھا
ہم سے مت پوچھ کہ کب چاند ابھرتا ہے یہاں
شعر
سب سے اونچا تھا جو سر نوک سناں پر دیکھا
ہم سے مت پوچھ کہ کب چاند ابھرتا ہے یہاں
موسم زرد میں ایک دل کو بچاؤں کیسے
موسم زرد میں ایک دل کو بچاؤں کیسے
ایسی رت میں تو گھنے پیڑ بھی جھڑ جاتے ہیں
غزل
ایسی رت میں تو گھنے پیڑ بھی جھڑ جاتے ہیں
سانسوں کے اس ہنر کو نہ آساں خیال کر
سانسوں کے اس ہنر کو نہ آساں خیال کر
زندہ ہوں ساعتوں کو میں صدیوں میں ڈھال کر
مالی نے آج کتنی دعائیں وصول کیں
غزل
زندہ ہوں ساعتوں کو میں صدیوں میں ڈھال کر
مالی نے آج کتنی دعائیں وصول کیں
خود اپنے دل میں خراشیں اتارنا ہوں گی
خود اپنے دل میں خراشیں اتارنا ہوں گی
ابھی تو جاگ کے راتیں گزارنا ہوں گی
ترے لیے مجھے ہنس ہنس کے بولنا ہوگا
شعر
ابھی تو جاگ کے راتیں گزارنا ہوں گی
ترے لیے مجھے ہنس ہنس کے بولنا ہوگا
اس شان سے لوٹے ہیں گنوا کر دل و جاں ہم
اس شان سے لوٹے ہیں گنوا کر دل و جاں ہم
اس طور تو ہارے ہوئے لشکر نہیں آتے
اس طور تو ہارے ہوئے لشکر نہیں آتے