سانسوں کے اس ہنر کو نہ آساں خیال کر
زندہ ہوں ساعتوں کو میں صدیوں میں ڈھال کر
مالی نے آج کتنی دعائیں وصول کیں
کچھ پھول اک فقیر کی جھولی میں ڈال کر
کل یوم ہجر زرد زمانوں کا یوم ہے
شب بھر نہ جاگ مفت میں آنکھیں نہ لال کر
اے گرد باد لوٹ کے آنا ہے پھر مجھے
رکھنا مرے سفر کی اذیت سنبھال کر
محراب میں دیے کی طرح زندگی گزار
منہ زور آندھیوں میں نہ خود کو نڈھال کر
شاید کسی نے بخل زمیں پر کیا ہے طنز
گہرے سمندروں سے جزیرے نکال کر
یہ نقد جاں کہ اس کا لٹانا تو سہل ہے
گر بن پڑے تو اس سے بھی مشکل سوال کر
محسنؔ برہنہ سر چلی آئی ہے شام غم
غربت نہ دیکھ اس پہ ستاروں کی شال کر
محسن نقوی کی مزید شاعری
شعر
انہی پہ ہو کبھی نازل عذاب آگ اجل
انہی پہ ہو کبھی نازل عذاب آگ اجل
وہی نگر کبھی ٹھہریں پیمبروں والے
غزل
وہی نگر کبھی ٹھہریں پیمبروں والے
بنام طاقت کوئی اشارہ نہیں چلے گا
بنام طاقت کوئی اشارہ نہیں چلے گا
اداس نسلوں پہ اب اجارہ نہیں چلے گا
ہم اپنی دھرتی سے اپنی ہر سمت خود تلاشیں
غزل
اداس نسلوں پہ اب اجارہ نہیں چلے گا
ہم اپنی دھرتی سے اپنی ہر سمت خود تلاشیں
کس نے سنگ خامشی پھینکا بھرے بازار پر
کس نے سنگ خامشی پھینکا بھرے بازار پر
اک سکوت مرگ طاری ہے در و دیوار پر
تو نے اپنی زلف کے سائے میں افسانے کہے
غزل
اک سکوت مرگ طاری ہے در و دیوار پر
تو نے اپنی زلف کے سائے میں افسانے کہے
غزلوں کی دھنک اوڑھ مرے شعلہ بدن تو
غزلوں کی دھنک اوڑھ مرے شعلہ بدن تو
ہے میرا سخن تو مرا موضوع سخن تو
کلیوں کی طرح پھوٹ سر شاخ تمنا
شعر
ہے میرا سخن تو مرا موضوع سخن تو
کلیوں کی طرح پھوٹ سر شاخ تمنا
کیوں ترے درد کو دیں تہمت ویرانیٔ دل
کیوں ترے درد کو دیں تہمت ویرانیٔ دل
زلزلوں میں تو بھرے شہر اجڑ جاتے ہیں
شعر
زلزلوں میں تو بھرے شہر اجڑ جاتے ہیں
جو دے سکا نہ پہاڑوں کو برف کی چادر
جو دے سکا نہ پہاڑوں کو برف کی چادر
وہ میری بانجھ زمیں کو کپاس کیا دے گا
وہ میری بانجھ زمیں کو کپاس کیا دے گا