Monday, October 26, 2026
FB
نظم

ہوا

ہوا
صبح دم اس کی آہستہ آہستہ کھلتی ہوئی آنکھ سے
خواب کی سیپیاں چننے جائے تو کہنا
کہ ہم جاگتے ہیں
ہوا اس سے کہنا
کہ جو ہجر کی آگ پیتی رتوں کی طنابیں
رگوں سے الجھتی ہوئی سانس کے ساتھ کس دیں
انہیں رات کے سرمئی ہاتھ خیرات میں نیند کب دے سکے ہیں
ہوا اس کے بازو پہ لکھا ہوا کوئی تعویذ باندھے تو کہنا
کہ آوارگی اوڑھ کر سانس لیتے مسافر
تجھے کھوجتے کھوجتے تھک گئے ہیں
ہوا اس سے کہنا
کہ ہم نے تجھے کھوجنے کی سبھی خواہشوں کو
اداسی کی دیوار میں چن دیا ہے
ہوا اس سے کہنا
کہ وحشی درندوں کی بستی کو جاتے ہوئے راستوں پر
ترے نقش پا دیکھ کر
ہم نے دل میں ترے نام کے ہر طرف
اک سیہ ماتمی حاشیہ بن دیا ہے
ہوا اس سے کہنا
ہوا کچھ نہ کہنا
ہوا کچھ نہ کہنا
27 ویوز 12 Sep 2026 نظم