Monday, October 26, 2026
FB
غزل

جذبے کو زبان دے رہا ہوں

جذبے کو زبان دے رہا ہوں
پتھر کو بھی جان دے رہا ہوں
اک یاد کو دفن کر کے دل میں
دشمن کو امان دے رہا ہوں
منصف کا مزاج جانتا ہوں
بے سود بیان دے رہا ہوں
چہرے پہ سجا کے خون اپنا
قاتل کا نشان دے رہا ہوں
فصلوں کو تو بارشوں نے لوٹا
مٹی کا لگان دے رہا ہوں
بہروپ بدل کے آندھیوں کا
تنکوں کو اڑان دے رہا ہوں
اس شہر میں شعر کہہ کے محسنؔ
صحرا میں اذان دے رہا ہوں
27 ویوز 12 Sep 2026 غزل