جذبے کو زبان دے رہا ہوں
پتھر کو بھی جان دے رہا ہوں
اک یاد کو دفن کر کے دل میں
دشمن کو امان دے رہا ہوں
منصف کا مزاج جانتا ہوں
بے سود بیان دے رہا ہوں
چہرے پہ سجا کے خون اپنا
قاتل کا نشان دے رہا ہوں
فصلوں کو تو بارشوں نے لوٹا
مٹی کا لگان دے رہا ہوں
بہروپ بدل کے آندھیوں کا
تنکوں کو اڑان دے رہا ہوں
اس شہر میں شعر کہہ کے محسنؔ
صحرا میں اذان دے رہا ہوں
محسن نقوی کی مزید شاعری
نظم
وہ تو یوں تھا کہ ہم
وہ تو یوں تھا کہ ہم
اپنی اپنی ضرورت کی خاطر
اپنے اپنے تقاضوں کو پورا کیا
غزل
اپنی اپنی ضرورت کی خاطر
اپنے اپنے تقاضوں کو پورا کیا
نہ سماعتوں میں تپش گھلے نہ نظر کو وقف عذاب کر
نہ سماعتوں میں تپش گھلے نہ نظر کو وقف عذاب کر
جو سنائی دے اسے چپ سکھا جو دکھائی دے اسے خواب کر
ابھی منتشر نہ ہو اجنبی نہ وصال رت کے کرم جتا
شعر
جو سنائی دے اسے چپ سکھا جو دکھائی دے اسے خواب کر
ابھی منتشر نہ ہو اجنبی نہ وصال رت کے کرم جتا
اس شان سے لوٹے ہیں گنوا کر دل و جاں ہم
اس شان سے لوٹے ہیں گنوا کر دل و جاں ہم
اس طور تو ہارے ہوئے لشکر نہیں آتے
غزل
اس طور تو ہارے ہوئے لشکر نہیں آتے
زباں رکھتا ہوں لیکن چپ کھڑا ہوں
زباں رکھتا ہوں لیکن چپ کھڑا ہوں
میں آوازوں کے بن میں گھر گیا ہوں
مرے گھر کا دریچہ پوچھتا ہے
نظم
میں آوازوں کے بن میں گھر گیا ہوں
مرے گھر کا دریچہ پوچھتا ہے
میرے کمرے میں اتر آئی خموشی پھر سے
میرے کمرے میں اتر آئی خموشی پھر سے
سایۂ شام غریباں کی طرح
شورش دیدۂ گریاں کی طرح
غزل
سایۂ شام غریباں کی طرح
شورش دیدۂ گریاں کی طرح
معرکہ اب کے ہوا بھی تو پھر ایسا ہوگا
معرکہ اب کے ہوا بھی تو پھر ایسا ہوگا
تیرے دریا پہ مری پیاس کا پہرہ ہوگا
اس کی آنکھیں ترے چہرے پہ بہت بولتی ہیں
تیرے دریا پہ مری پیاس کا پہرہ ہوگا
اس کی آنکھیں ترے چہرے پہ بہت بولتی ہیں