Wednesday, October 28, 2026
FB
غزل

کیسا مفتوح سا منظر ہے کئی صدیوں سے

کیسا مفتوح سا منظر ہے کئی صدیوں سے
میرے قدموں پہ مرا سر ہے کئی صدیوں سے
خوف رہتا ہے نہ سیلاب کہیں لے جائے
میری پلکوں پہ ترا گھر ہے کئی صدیوں سے
اشک آنکھوں میں سلگتے ہوئے سو جاتے ہیں
یہ مری آنکھ جو بنجر ہے کئی صدیوں سے
کون کہتا ہے ملاقات مری آج کی ہے
تو مری روح کے اندر ہے کئی صدیوں سے
میں نے جس کے لیے ہر شخص کو ناراض کیا
روٹھ جائے نہ یہی ڈر ہے کئی صدیوں سے
اس کو عادت ہے جڑیں کاٹتے رہنے کی وصیؔ
جو مری ذات کا محور ہے کئی صدیوں سے
35 ویوز 13 Sep 2026 غزل

وصی شاہ کی مزید شاعری

غزل

مری وفا نے کھلائے تھے جو گلاب سارے جھلس گئے ہیں

مری وفا نے کھلائے تھے جو گلاب سارے جھلس گئے ہیں
تمہاری آنکھوں میں جس قدر تھے وہ خواب سارے جھلس گئے ہیں
مری زمیں کو کسی نئے حادثے کا ہے انتظار شاید
غزل

دیار غیر میں کیسے تجھے صدا دیتے

دیار غیر میں کیسے تجھے صدا دیتے
تو مل بھی جاتا تو آخر تجھے گنوا دیتے
تمہی نے ہم کو سنایا نہ اپنا دکھ ورنہ
غزل

ہزاروں دکھ پڑیں سہنا محبت مر نہیں سکتی

ہزاروں دکھ پڑیں سہنا محبت مر نہیں سکتی
ہے تم سے بس یہی کہنا محبت مر نہیں سکتی
ترا ہر بار میرے خط کو پڑھنا اور رو دینا
غزل

میں اس حصار سے نکلوں تو اور کچھ سوچوں

میں اس حصار سے نکلوں تو اور کچھ سوچوں
تمہارے پیار سے نکلوں تو اور کچھ سوچوں
تری گلی کے علاوہ بھی اور قریے ہیں
غزل

دکھ درد کے ماروں سے مرا ذکر نہ کرنا

دکھ درد کے ماروں سے مرا ذکر نہ کرنا
گھر جاؤ تو یاروں سے مرا ذکر نہ کرنا
وہ ضبط نہ کر پائیں گی آنکھوں کے سمندر
غزل

غم کی اس سل کو کبھی بھی نہ سمجھ پائے گی

غم کی اس سل کو کبھی بھی نہ سمجھ پائے گی
تو مرے دل کو کبھی بھی نہ سمجھ پائے گی
مجھ کو تسلیم تری ساری ذہانت لیکن