مری وفا نے کھلائے تھے جو گلاب سارے جھلس گئے ہیں
تمہاری آنکھوں میں جس قدر تھے وہ خواب سارے جھلس گئے ہیں
مری زمیں کو کسی نئے حادثے کا ہے انتظار شاید
گناہ پھلنے لگے ہیں اجر و ثواب سارے جھلس گئے ہیں
جو تم گئے تو مری نظر پہ حقیقتوں کے عذاب اترے
یہ سوچتا ہوں کہ کیا کروں گا سراب سارے جھلس گئے ہیں
یہ معجزہ صرف ایک شب کی مسافتوں کے سبب ہوا ہے
تمہارے اور میرے درمیاں کے حجاب سارے جھلس گئے ہیں
اسے بتانا کہ اس کی یادوں کے سارے صفحے جلا چکا ہوں
کتاب دل میں رقم تھے جتنے وہ باب سارے جھلس گئے ہیں
نظر اٹھاؤں میں جس طرف بھی مہیب سائے ہیں ظلمتوں کے
یہ کیا کہ میرے نصیب کے ماہتاب سارے جھلس گئے ہیں
تمہاری نظروں کی یہ تپش ہے کہ میرے لفظوں پہ آبلے ہیں
سوال سارے جھلس گئے ہیں جواب سارے جھلس گئے ہیں
یہ آگ خاموشیوں کی کیسی تمہاری آنکھوں میں تیرتی ہے
تمہارے ہونٹوں پہ درج تھے جو نصاب سارے جھلس گئے ہیں
وصی شاہ کی مزید شاعری
غزل
میری آنکھوں کے سمندر میں جلن کیسی ہے
میری آنکھوں کے سمندر میں جلن کیسی ہے
آج پھر دل کو تڑپنے کی لگن کیسی ہے
اب کسی چھت پہ چراغوں کی قطاریں بھی نہیں
غزل
آج پھر دل کو تڑپنے کی لگن کیسی ہے
اب کسی چھت پہ چراغوں کی قطاریں بھی نہیں
ترے فراق کے لمحے شمار کرتے ہوئے
ترے فراق کے لمحے شمار کرتے ہوئے
بکھر گئے ہیں ترا انتظار کرتے ہوئے
تمہیں خبر ہی نہیں ہے کہ کوئی ٹوٹ گیا
غزل
بکھر گئے ہیں ترا انتظار کرتے ہوئے
تمہیں خبر ہی نہیں ہے کہ کوئی ٹوٹ گیا
دکھ درد کے ماروں سے مرا ذکر نہ کرنا
دکھ درد کے ماروں سے مرا ذکر نہ کرنا
گھر جاؤ تو یاروں سے مرا ذکر نہ کرنا
وہ ضبط نہ کر پائیں گی آنکھوں کے سمندر
غزل
گھر جاؤ تو یاروں سے مرا ذکر نہ کرنا
وہ ضبط نہ کر پائیں گی آنکھوں کے سمندر
میں ہوں ترا خیال ہے اور چاند رات ہے
میں ہوں ترا خیال ہے اور چاند رات ہے
دل درد سے نڈھال ہے اور چاند رات ہے
آنکھوں میں چبھ گئیں تری یادوں کی کرچیاں
غزل
دل درد سے نڈھال ہے اور چاند رات ہے
آنکھوں میں چبھ گئیں تری یادوں کی کرچیاں
یہ کامیابیاں عزت یہ نام تم سے ہے
یہ کامیابیاں عزت یہ نام تم سے ہے
اے میری ماں مرا سارا مقام تم سے ہے
تمہارے دم سے ہیں میرے لہو میں کھلتے گلاب
غزل
اے میری ماں مرا سارا مقام تم سے ہے
تمہارے دم سے ہیں میرے لہو میں کھلتے گلاب
بھنور کی گود میں جیسے کنارہ ساتھ رہتا ہے
بھنور کی گود میں جیسے کنارہ ساتھ رہتا ہے
کچھ ایسے ہی تمہارا اور ہمارا ساتھ رہتا ہے
محبت ہو کہ نفرت ہو اسی سے مشورہ ہوگا
کچھ ایسے ہی تمہارا اور ہمارا ساتھ رہتا ہے
محبت ہو کہ نفرت ہو اسی سے مشورہ ہوگا