یہ دل یہ پاگل دل مرا کیوں بجھ گیا آوارگی
اس دشت میں اک شہر تھا وہ کیا ہوا آوارگی
کل شب مجھے بے شکل کی آواز نے چونکا دیا
میں نے کہا تو کون ہے اس نے کہا آوارگی
لوگو بھلا اس شہر میں کیسے جئیں گے ہم جہاں
ہو جرم تنہا سوچنا لیکن سزا آوارگی
یہ درد کی تنہائیاں یہ دشت کا ویراں سفر
ہم لوگ تو اکتا گئے اپنی سنا آوارگی
اک اجنبی جھونکے نے جب پوچھا مرے غم کا سبب
صحرا کی بھیگی ریت پر میں نے لکھا آوارگی
اس سمت وحشی خواہشوں کی زد میں پیمان وفا
اس سمت لہروں کی دھمک کچا گھڑا آوارگی
کل رات تنہا چاند کو دیکھا تھا میں نے خواب میں
محسنؔ مجھے راس آئے گی شاید سدا آوارگی
محسن نقوی کی مزید شاعری
غزل
میں چپ رہا کہ زہر یہی مجھ کو راس تھا
میں چپ رہا کہ زہر یہی مجھ کو راس تھا
وہ سنگ لفظ پھینک کے کتنا اداس تھا
اکثر مری قبا پہ ہنسی آ گئی جسے
نظم
وہ سنگ لفظ پھینک کے کتنا اداس تھا
اکثر مری قبا پہ ہنسی آ گئی جسے
آج تنہائی نے تھوڑا سا دلاسہ جو دیا
آج تنہائی نے تھوڑا سا دلاسہ جو دیا
کتنے روٹھے ہوئے ساتھی مجھے یاد آئے ہیں
موسم وصل کی کرنوں کا وہ انبوہ رواں
شعر
کتنے روٹھے ہوئے ساتھی مجھے یاد آئے ہیں
موسم وصل کی کرنوں کا وہ انبوہ رواں
ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھی
ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھی
میری طرح کسی سے محبت اسے بھی تھی
نظم
میری طرح کسی سے محبت اسے بھی تھی
کسی کے دور جانے سے
کسی کے دور جانے سے
تعلق ٹوٹ جانے سے
کسی کے مان جانے سے
نظم
تعلق ٹوٹ جانے سے
کسی کے مان جانے سے
پاگل آنکھوں والی لڑکی
پاگل آنکھوں والی لڑکی
اتنے مہنگے خواب نہ دیکھو
تھک جاؤ گی
غزل
اتنے مہنگے خواب نہ دیکھو
تھک جاؤ گی
عذاب دید میں آنکھیں لہو لہو کر کے
عذاب دید میں آنکھیں لہو لہو کر کے
میں شرمسار ہوا تیری جستجو کر کے
کھنڈر کی تہ سے بریدہ بدن سروں کے سوا
میں شرمسار ہوا تیری جستجو کر کے
کھنڈر کی تہ سے بریدہ بدن سروں کے سوا