کسی کو دیکھ کے چپ چپ سے کیوں ہوئے محسنؔ
کہاں گئے وہ ارادے سخن وروں والے
محسن نقوی کی مزید شاعری
شعر
تیز ہوا نے مجھ سے پوچھا
تیز ہوا نے مجھ سے پوچھا
ریت پہ کیا لکھتے رہتے ہو
شعر
ریت پہ کیا لکھتے رہتے ہو
ہم اپنی دھرتی سے اپنی ہر سمت خود تلاشیں
ہم اپنی دھرتی سے اپنی ہر سمت خود تلاشیں
ہماری خاطر کوئی ستارہ نہیں چلے گا
غزل
ہماری خاطر کوئی ستارہ نہیں چلے گا
خمار موسم خوشبو حد چمن میں کھلا
خمار موسم خوشبو حد چمن میں کھلا
مری غزل کا خزانہ ترے بدن میں کھلا
تم اس کا حسن کبھی اس کی بزم میں دیکھو
شعر
مری غزل کا خزانہ ترے بدن میں کھلا
تم اس کا حسن کبھی اس کی بزم میں دیکھو
بڑی عمر کے بعد ان آنکھوں میں کوئی ابر اترا تری یادوں کا
بڑی عمر کے بعد ان آنکھوں میں کوئی ابر اترا تری یادوں کا
مرے دل کی زمیں آباد ہوئی مرے غم کا نگر شاداب ہوا
نظم
مرے دل کی زمیں آباد ہوئی مرے غم کا نگر شاداب ہوا
میرے کمرے میں اتر آئی خموشی پھر سے
میرے کمرے میں اتر آئی خموشی پھر سے
سایۂ شام غریباں کی طرح
شورش دیدۂ گریاں کی طرح
غزل
سایۂ شام غریباں کی طرح
شورش دیدۂ گریاں کی طرح
اجڑ اجڑ کے سنورتی ہے تیرے ہجر کی شام
اجڑ اجڑ کے سنورتی ہے تیرے ہجر کی شام
نہ پوچھ کیسے گزرتی ہے تیرے ہجر کی شام
یہ برگ برگ اداسی بکھر رہی ہے مری
نہ پوچھ کیسے گزرتی ہے تیرے ہجر کی شام
یہ برگ برگ اداسی بکھر رہی ہے مری