Monday, October 26, 2026
FB
غزل

خمار موسم خوشبو حد چمن میں کھلا

خمار موسم خوشبو حد چمن میں کھلا
مری غزل کا خزانہ ترے بدن میں کھلا
تم اس کا حسن کبھی اس کی بزم میں دیکھو
کہ ماہتاب سدا شب کے پیرہن میں کھلا
عجب نشہ تھا مگر اس کی بخشش لب میں
کہ یوں تو ہم سے بھی کیا کیا نہ وہ سخن میں کھلا
نہ پوچھ پہلی ملاقات میں مزاج اس کا
وہ رنگ رنگ میں سمٹا کرن کرن میں کھلا
بدن کی چاپ نگہ کی زباں بھی ہوتی ہے
یہ بھید ہم پہ مگر اس کی انجمن میں کھلا
کہ جیسے ابر ہوا کی گرہ سے کھل جائے
سفر کی شام مرا مہرباں تھکن میں کھلا
کہوں میں کس سے نشانی تھی کس مسیحا کی
وہ ایک زخم کہ محسنؔ مرے کفن میں کھلا
25 ویوز 12 Sep 2026 غزل

محسن نقوی کی مزید شاعری