خمار موسم خوشبو حد چمن میں کھلا
مری غزل کا خزانہ ترے بدن میں کھلا
تم اس کا حسن کبھی اس کی بزم میں دیکھو
کہ ماہتاب سدا شب کے پیرہن میں کھلا
عجب نشہ تھا مگر اس کی بخشش لب میں
کہ یوں تو ہم سے بھی کیا کیا نہ وہ سخن میں کھلا
نہ پوچھ پہلی ملاقات میں مزاج اس کا
وہ رنگ رنگ میں سمٹا کرن کرن میں کھلا
بدن کی چاپ نگہ کی زباں بھی ہوتی ہے
یہ بھید ہم پہ مگر اس کی انجمن میں کھلا
کہ جیسے ابر ہوا کی گرہ سے کھل جائے
سفر کی شام مرا مہرباں تھکن میں کھلا
کہوں میں کس سے نشانی تھی کس مسیحا کی
وہ ایک زخم کہ محسنؔ مرے کفن میں کھلا
محسن نقوی کی مزید شاعری
غزل
ایک پل میں زندگی بھر کی اداسی دے گیا
ایک پل میں زندگی بھر کی اداسی دے گیا
وہ جدا ہوتے ہوئے کچھ پھول باسی دے گیا
نوچ کر شاخوں کے تن سے خشک پتوں کا لباس
غزل
وہ جدا ہوتے ہوئے کچھ پھول باسی دے گیا
نوچ کر شاخوں کے تن سے خشک پتوں کا لباس
ہوائے ہجر میں جو کچھ تھا اب کے خاک ہوا
ہوائے ہجر میں جو کچھ تھا اب کے خاک ہوا
کہ پیرہن تو گیا تھا بدن بھی چاک ہوا
اب اس سے ترک تعلق کروں تو مر جاؤں
غزل
کہ پیرہن تو گیا تھا بدن بھی چاک ہوا
اب اس سے ترک تعلق کروں تو مر جاؤں
پھر وہی میں ہوں وہی شہر بدر سناٹا
پھر وہی میں ہوں وہی شہر بدر سناٹا
مجھ کو ڈس لے نہ کہیں خاک بسر سناٹا
دشت ہستی میں شب غم کی سحر کرنے کو
غزل
مجھ کو ڈس لے نہ کہیں خاک بسر سناٹا
دشت ہستی میں شب غم کی سحر کرنے کو
عجیب خوف مسلط تھا کل حویلی پر
عجیب خوف مسلط تھا کل حویلی پر
لہو چراغ جلاتی رہی ہتھیلی پر
سنے گا کون مگر احتجاج خوشبو کا
شعر
لہو چراغ جلاتی رہی ہتھیلی پر
سنے گا کون مگر احتجاج خوشبو کا
گہری خموش جھیل کے پانی کو یوں نہ چھیڑ
گہری خموش جھیل کے پانی کو یوں نہ چھیڑ
چھینٹے اڑے تو تیری قبا پر بھی آئیں گے
غزل
چھینٹے اڑے تو تیری قبا پر بھی آئیں گے
ہم جو پہنچے سر مقتل تو یہ منظر دیکھا
ہم جو پہنچے سر مقتل تو یہ منظر دیکھا
سب سے اونچا تھا جو سر نوک سناں پر دیکھا
ہم سے مت پوچھ کہ کب چاند ابھرتا ہے یہاں
سب سے اونچا تھا جو سر نوک سناں پر دیکھا
ہم سے مت پوچھ کہ کب چاند ابھرتا ہے یہاں