نیا ہے شہر نئے آسرے تلاش کروں
تو کھو گیا ہے کہاں اب تجھے تلاش کروں
جو دشت میں بھی جلاتے تھے فصل گل کے چراغ
میں شہر میں بھی وہی آبلے تلاش کروں
تو عکس ہے تو کبھی میری چشم تر میں اتر
ترے لیے میں کہاں آئنے تلاش کروں
تجھے حواس کی آوارگی کا علم کہاں
کبھی میں تجھ کو ترے سامنے تلاش کروں
غزل کہوں کبھی سادہ سے خط لکھوں اس کو
اداس دل کے لیے مشغلے تلاش کروں
مرے وجود سے شاید ملے سراغ ترا
کبھی میں خود کو ترے واسطے تلاش کروں
میں چپ رہوں کبھی بے وجہ ہنس پڑوں محسنؔ
اسے گنوا کے عجب حوصلے تلاش کروں
محسن نقوی کی مزید شاعری
نظم
بہت دنوں سے
بہت دنوں سے
وہ شاخ مہتاب کٹ چکی ہے
کہ جس پہ تم نے گرفت وعدہ کی ریشمی شال کے ستارے سجا دیئے تھے
غزل
وہ شاخ مہتاب کٹ چکی ہے
کہ جس پہ تم نے گرفت وعدہ کی ریشمی شال کے ستارے سجا دیئے تھے
میں چپ رہا کہ زہر یہی مجھ کو راس تھا
میں چپ رہا کہ زہر یہی مجھ کو راس تھا
وہ سنگ لفظ پھینک کے کتنا اداس تھا
اکثر مری قبا پہ ہنسی آ گئی جسے
غزل
وہ سنگ لفظ پھینک کے کتنا اداس تھا
اکثر مری قبا پہ ہنسی آ گئی جسے
ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھی
ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھی
میری طرح کسی سے محبت اسے بھی تھی
مجھ کو بھی شوق تھا نئے چہروں کی دید کا
غزل
میری طرح کسی سے محبت اسے بھی تھی
مجھ کو بھی شوق تھا نئے چہروں کی دید کا
فضا کا حبس شگوفوں کو باس کیا دے گا
فضا کا حبس شگوفوں کو باس کیا دے گا
بدن دریدہ کسی کو لباس کیا دے گا
یہ دل کہ قحط انا سے غریب ٹھہرا ہے
نظم
بدن دریدہ کسی کو لباس کیا دے گا
یہ دل کہ قحط انا سے غریب ٹھہرا ہے
کئی سال گزرے
کئی سال گزرے
کئی سال بیتے
شب و روز کی گردشوں کا تسلسل
غزل
کئی سال بیتے
شب و روز کی گردشوں کا تسلسل
بنام طاقت کوئی اشارہ نہیں چلے گا
بنام طاقت کوئی اشارہ نہیں چلے گا
اداس نسلوں پہ اب اجارہ نہیں چلے گا
ہم اپنی دھرتی سے اپنی ہر سمت خود تلاشیں
اداس نسلوں پہ اب اجارہ نہیں چلے گا
ہم اپنی دھرتی سے اپنی ہر سمت خود تلاشیں