Wednesday, October 28, 2026
FB
غزل

نیا ہے شہر نئے آسرے تلاش کروں

نیا ہے شہر نئے آسرے تلاش کروں
تو کھو گیا ہے کہاں اب تجھے تلاش کروں
جو دشت میں بھی جلاتے تھے فصل گل کے چراغ
میں شہر میں بھی وہی آبلے تلاش کروں
تو عکس ہے تو کبھی میری چشم تر میں اتر
ترے لیے میں کہاں آئنے تلاش کروں
تجھے حواس کی آوارگی کا علم کہاں
کبھی میں تجھ کو ترے سامنے تلاش کروں
غزل کہوں کبھی سادہ سے خط لکھوں اس کو
اداس دل کے لیے مشغلے تلاش کروں
مرے وجود سے شاید ملے سراغ ترا
کبھی میں خود کو ترے واسطے تلاش کروں
میں چپ رہوں کبھی بے وجہ ہنس پڑوں محسنؔ
اسے گنوا کے عجب حوصلے تلاش کروں
26 ویوز 12 Sep 2026 غزل