بہت دنوں سے
وہ شاخ مہتاب کٹ چکی ہے
کہ جس پہ تم نے گرفت وعدہ کی ریشمی شال کے ستارے سجا دیئے تھے
بہت دنوں سے
وہ گرد احساس چھٹ چکی ہے
کہ جس کے ذروں پہ تم نے
پلکوں کی جھالروں کے تمام نیلم لٹا دیئے تھے
اور اب تو یوں ہے کہ جیسے
لب بستہ ہجرتوں کا ہر ایک لمحہ
طویل صدیوں کو اوڑھ کر سانس لے رہا ہے
اور اب تو یوں ہے کہ جیسے تم نے
پہاڑ راتوں کو
میری اندھی اجاڑ آنکھوں میں
ریزہ ریزہ بسا دیا ہے
کہ جیسے میں نے
فگار دل کا ہنر اثاثہ
کہیں چھپا کر بھلا دیا ہے
اور اب تو یوں ہے کہ
اپنی آنکھوں پہ ہاتھ رکھ کر
مرے بدن پر سجے ہوئے آبلوں سے بہتا لہو نہ دیکھو
مجھے کبھی سرخ رو نہ دیکھو
نہ میری یادوں کے جلتے بجھتے نشاں کریدو
نہ میرے مقتل کی خاک دیکھو
اور اب تو یوں ہے کہ
اپنی آنکھوں کے خواب
اپنے دریدہ دامن کے چاک دیکھو
کہ گرد احساس چھٹ چکی ہے
کہ شاخ مہتاب کٹ چکی ہے
محسن نقوی کی مزید شاعری
غزل
پھر وہی میں ہوں وہی شہر بدر سناٹا
پھر وہی میں ہوں وہی شہر بدر سناٹا
مجھ کو ڈس لے نہ کہیں خاک بسر سناٹا
دشت ہستی میں شب غم کی سحر کرنے کو
نظم
مجھ کو ڈس لے نہ کہیں خاک بسر سناٹا
دشت ہستی میں شب غم کی سحر کرنے کو
تمہیں کس نے کہا تھا
تمہیں کس نے کہا تھا
دوپہر کے گرم سورج کی طرف دیکھو
اور اتنی دیر تک دیکھو
غزل
دوپہر کے گرم سورج کی طرف دیکھو
اور اتنی دیر تک دیکھو
فن میں یہ معجزہ بھی پیدا کر
فن میں یہ معجزہ بھی پیدا کر
پتھروں سے بشر تراشا کر
کب سے اپنی تلاش میں گم ہوں
شعر
پتھروں سے بشر تراشا کر
کب سے اپنی تلاش میں گم ہوں
لوگو بھلا اس شہر میں کیسے جئیں گے ہم جہاں
لوگو بھلا اس شہر میں کیسے جئیں گے ہم جہاں
ہو جرم تنہا سوچنا لیکن سزا آوارگی
نظم
ہو جرم تنہا سوچنا لیکن سزا آوارگی
ہوا
ہوا
صبح دم اس کی آہستہ آہستہ کھلتی ہوئی آنکھ سے
خواب کی سیپیاں چننے جائے تو کہنا
غزل
صبح دم اس کی آہستہ آہستہ کھلتی ہوئی آنکھ سے
خواب کی سیپیاں چننے جائے تو کہنا
زباں رکھتا ہوں لیکن چپ کھڑا ہوں
زباں رکھتا ہوں لیکن چپ کھڑا ہوں
میں آوازوں کے بن میں گھر گیا ہوں
مرے گھر کا دریچہ پوچھتا ہے
میں آوازوں کے بن میں گھر گیا ہوں
مرے گھر کا دریچہ پوچھتا ہے