قلم ہو تیغ ہو تیشہ کہ ڈھال مت چھینو
کبھی کسی سے کسی کا کمال مت چھینو
خوشی اسی میں اگر ہے تو ہر خوشی لے لو
یہ دکھ یہ درد یہ حزن و ملال مت چھینو
اسی خلش کے سبب پھر مجھے ابھرنا ہے
خدا کے واسطے عہد زوال مت چھینو
میں چھوڑ سکتا نہیں ساتھ استقامت کا
مری اذان سے جوش بلال مت چھینو
ابھی کتاب نہ چھینو تم ان کے ہاتھوں سے
ہمارے بچوں کا حسن و جمال مت چھینو
ہماری آنکھ میں یادوں کے زخم رہنے دو
ہمارے ہاتھ سے پھولوں کی ڈال مت چھینو
ابھی بجھاؤ نہ کینڈل نہ کیک کاٹو ابھی
کچھ اور دیر مرا پچھلا سال مت چھینو
وصی شاہ کی مزید شاعری
غزل
میں اس حصار سے نکلوں تو اور کچھ سوچوں
میں اس حصار سے نکلوں تو اور کچھ سوچوں
تمہارے پیار سے نکلوں تو اور کچھ سوچوں
تری گلی کے علاوہ بھی اور قریے ہیں
غزل
تمہارے پیار سے نکلوں تو اور کچھ سوچوں
تری گلی کے علاوہ بھی اور قریے ہیں
آنکھوں سے مری اس لیے لالی نہیں جاتی
آنکھوں سے مری اس لیے لالی نہیں جاتی
یادوں سے کوئی رات جو خالی نہیں جاتی
اب عمر نہ موسم نہ وہ رستے کہ وہ پلٹے
غزل
یادوں سے کوئی رات جو خالی نہیں جاتی
اب عمر نہ موسم نہ وہ رستے کہ وہ پلٹے
ہزاروں دکھ پڑیں سہنا محبت مر نہیں سکتی
ہزاروں دکھ پڑیں سہنا محبت مر نہیں سکتی
ہے تم سے بس یہی کہنا محبت مر نہیں سکتی
ترا ہر بار میرے خط کو پڑھنا اور رو دینا
غزل
ہے تم سے بس یہی کہنا محبت مر نہیں سکتی
ترا ہر بار میرے خط کو پڑھنا اور رو دینا
اس کی آنکھوں میں محبت کا ستارہ ہوگا
اس کی آنکھوں میں محبت کا ستارہ ہوگا
ایک دن آئے گا وہ شخص ہمارا ہوگا
زندگی اب کے مرا نام نہ شامل کرنا
غزل
ایک دن آئے گا وہ شخص ہمارا ہوگا
زندگی اب کے مرا نام نہ شامل کرنا
اداس راتوں میں تیز کافی کی تلخیوں میں
اداس راتوں میں تیز کافی کی تلخیوں میں
وہ کچھ زیادہ ہی یاد آتا ہے سردیوں میں
مجھے اجازت نہیں ہے اس کو پکارنے کی
غزل
وہ کچھ زیادہ ہی یاد آتا ہے سردیوں میں
مجھے اجازت نہیں ہے اس کو پکارنے کی
تو میں بھی خوش ہوں کوئی اس سے جا کے کہہ دینا
تو میں بھی خوش ہوں کوئی اس سے جا کے کہہ دینا
اگر وہ خوش ہے مجھے بے قرار کرتے ہوئے
تمہیں خبر ہی نہیں ہے کہ کوئی ٹوٹ گیا
اگر وہ خوش ہے مجھے بے قرار کرتے ہوئے
تمہیں خبر ہی نہیں ہے کہ کوئی ٹوٹ گیا