Wednesday, October 28, 2026
FB
غزل

اس کی آنکھوں میں محبت کا ستارہ ہوگا

اس کی آنکھوں میں محبت کا ستارہ ہوگا
ایک دن آئے گا وہ شخص ہمارا ہوگا
زندگی اب کے مرا نام نہ شامل کرنا
گر یہ طے ہے کہ یہی کھیل دوبارہ ہوگا
جس کے ہونے سے مری سانس چلا کرتی تھی
کس طرح اس کے بغیر اپنا گزارہ ہوگا
عشق کرنا ہے تو دن رات اسے سوچنا ہے
اور کچھ ذہن میں آیا تو خسارہ ہوگا
کون روتا ہے یہاں رات کے سناٹوں میں
میرے جیسا ہی کوئی ہجر کا مارا ہوگا
جو مری روح میں بادل سے گرجتے ہیں وصیؔ
اس نے سینے میں کوئی درد اتارا ہوگا
کام مشکل ہے مگر جیت ہی لوں گا اس کو
میرے مولا کا وصیؔ جوں ہی اشارہ ہوگا
29 ویوز 12 Sep 2026 غزل

وصی شاہ کی مزید شاعری

غزل

ڈوبتا صاف نظر آیا کنارہ کوئی دوست

ڈوبتا صاف نظر آیا کنارہ کوئی دوست
پھر بھی کشتی سے نہیں ہم نے اتارا کوئی دوست
جب بھی نیکی کا کوئی کام کیا ہے ہم نے
غزل

گلی میں درد کے پرزے تلاش کرتی تھی

گلی میں درد کے پرزے تلاش کرتی تھی
مرے خطوط کے ٹکڑے تلاش کرتی تھی
کہاں گئی وہ کنواری اداس بی آپا
غزل

میری محفل تھا مری خلوت جاں تھا کیا تھا

میری محفل تھا مری خلوت جاں تھا کیا تھا
وہ عجب شخص تھا اک راز نہاں تھا کیا تھا
بال کھولے ہوئے پھرتی تھیں حسینائیں کچھ
غزل

بھنور کی گود میں جیسے کنارہ ساتھ رہتا ہے

بھنور کی گود میں جیسے کنارہ ساتھ رہتا ہے
کچھ ایسے ہی تمہارا اور ہمارا ساتھ رہتا ہے
محبت ہو کہ نفرت ہو اسی سے مشورہ ہوگا
غزل

ترے گلے میں جو بانہوں کو ڈال رکھتے ہیں

ترے گلے میں جو بانہوں کو ڈال رکھتے ہیں
تجھے منانے کا کیسا کمال رکھتے ہیں
تجھے خبر ہے تجھے سوچنے کی خاطر ہم
غزل

دل میں بکھرے ہوئے جالوں سے پریشان نہ ہو

دل میں بکھرے ہوئے جالوں سے پریشان نہ ہو
میرے گزرے ہوئے سالوں سے پریشان نہ ہو
میری آواز کی تلخی کو گوارہ کر لے