سارے لہجے ترے بے زماں ایک میں
اس بھرے شہر میں رائیگاں ایک میں
وصل کے شہر کی روشنی ایک تو
ہجر کے دشت میں کارواں ایک میں
بجلیوں سے بھری بارشیں زور پر
اپنی بستی میں کچا مکاں ایک میں
حسرتوں سے اٹے آسماں کے تلے
جلتی بجھتی ہوئی کہکشاں ایک میں
مجھ کو فارغ دنوں کی امانت سمجھ
بھولی بسری ہوئی داستاں ایک میں
رونقیں شور میلے جھمیلے ترے
اپنی تنہائی کا رازداں ایک میں
ایک میں اپنی ہی زندگی کا بھرم
اپنی ہی موت پر نوحہ خواں ایک میں
اس طرف سنگ باری ہر اک بام سے
اس طرف آئنوں کی دکاں ایک میں
وہ نہیں ہے تو محسنؔ یہ مت سوچنا
اب بھٹکتا پھروں گا کہاں ایک میں
محسن نقوی کی مزید شاعری
غزل
اب کے بارش میں تو یہ کار زیاں ہونا ہی تھا
اب کے بارش میں تو یہ کار زیاں ہونا ہی تھا
اپنی کچی بستیوں کو بے نشاں ہونا ہی تھا
کس کے بس میں تھا ہوا کی وحشتوں کو روکنا
شعر
اپنی کچی بستیوں کو بے نشاں ہونا ہی تھا
کس کے بس میں تھا ہوا کی وحشتوں کو روکنا
کون سی بات ہے تم میں ایسی
کون سی بات ہے تم میں ایسی
اتنے اچھے کیوں لگتے ہو
نظم
اتنے اچھے کیوں لگتے ہو
کئی سال گزرے
کئی سال گزرے
کئی سال بیتے
شب و روز کی گردشوں کا تسلسل
شعر
کئی سال بیتے
شب و روز کی گردشوں کا تسلسل
وہ مجھ سے بڑھ کے ضبط کا عادی تھا جی گیا
وہ مجھ سے بڑھ کے ضبط کا عادی تھا جی گیا
ورنہ ہر ایک سانس قیامت اسے بھی تھی
غزل
ورنہ ہر ایک سانس قیامت اسے بھی تھی
اجڑ اجڑ کے سنورتی ہے تیرے ہجر کی شام
اجڑ اجڑ کے سنورتی ہے تیرے ہجر کی شام
نہ پوچھ کیسے گزرتی ہے تیرے ہجر کی شام
یہ برگ برگ اداسی بکھر رہی ہے مری
شعر
نہ پوچھ کیسے گزرتی ہے تیرے ہجر کی شام
یہ برگ برگ اداسی بکھر رہی ہے مری
سنا ہے شہر میں زخمی دلوں کا میلہ ہے
سنا ہے شہر میں زخمی دلوں کا میلہ ہے
چلیں گے ہم بھی مگر پیرہن رفو کر کے
چلیں گے ہم بھی مگر پیرہن رفو کر کے