Wednesday, October 28, 2026
FB
شعر

کون سی بات ہے تم میں ایسی

کون سی بات ہے تم میں ایسی
اتنے اچھے کیوں لگتے ہو
27 ویوز 12 Sep 2026 شعر

محسن نقوی کی مزید شاعری

غزل

نہ سماعتوں میں تپش گھلے نہ نظر کو وقف عذاب کر

نہ سماعتوں میں تپش گھلے نہ نظر کو وقف عذاب کر
جو سنائی دے اسے چپ سکھا جو دکھائی دے اسے خواب کر
ابھی منتشر نہ ہو اجنبی نہ وصال رت کے کرم جتا
غزل

اجڑ اجڑ کے سنورتی ہے تیرے ہجر کی شام

اجڑ اجڑ کے سنورتی ہے تیرے ہجر کی شام
نہ پوچھ کیسے گزرتی ہے تیرے ہجر کی شام
یہ برگ برگ اداسی بکھر رہی ہے مری
غزل

عجیب خوف مسلط تھا کل حویلی پر

عجیب خوف مسلط تھا کل حویلی پر
لہو چراغ جلاتی رہی ہتھیلی پر
سنے گا کون مگر احتجاج خوشبو کا
غزل

ہوائے ہجر میں جو کچھ تھا اب کے خاک ہوا

ہوائے ہجر میں جو کچھ تھا اب کے خاک ہوا
کہ پیرہن تو گیا تھا بدن بھی چاک ہوا
اب اس سے ترک تعلق کروں تو مر جاؤں
غزل

کٹھن تنہائیوں سے کون کھیلا میں اکیلا

کٹھن تنہائیوں سے کون کھیلا میں اکیلا
بھرا اب بھی مرے گاؤں کا میلہ میں اکیلا
بچھڑ کر تجھ سے میں شب بھر نہ سویا کون رویا
غزل

پھر وہی میں ہوں وہی شہر بدر سناٹا

پھر وہی میں ہوں وہی شہر بدر سناٹا
مجھ کو ڈس لے نہ کہیں خاک بسر سناٹا
دشت ہستی میں شب غم کی سحر کرنے کو