Wednesday, October 28, 2026
FB
شعر

شاخ عریاں پر کھلا اک پھول اس انداز سے

شاخ عریاں پر کھلا اک پھول اس انداز سے
جس طرح تازہ لہو چمکے نئی تلوار پر
31 ویوز 12 Sep 2026 شعر

محسن نقوی کی مزید شاعری

شعر

بڑی عمر کے بعد ان آنکھوں میں کوئی ابر اترا تری یادوں کا

بڑی عمر کے بعد ان آنکھوں میں کوئی ابر اترا تری یادوں کا
مرے دل کی زمیں آباد ہوئی مرے غم کا نگر شاداب ہوا
شعر

جن اشکوں کی پھیکی لو کو ہم بے کار سمجھتے تھے

جن اشکوں کی پھیکی لو کو ہم بے کار سمجھتے تھے
ان اشکوں سے کتنا روشن اک تاریک مکان ہوا
نظم

میرے کمرے میں اتر آئی خموشی پھر سے

میرے کمرے میں اتر آئی خموشی پھر سے
سایۂ‌ شام غریباں کی طرح
شورش دیدۂ گریاں کی طرح
غزل

آپ کی آنکھ سے گہرا ہے مری روح کا زخم

آپ کی آنکھ سے گہرا ہے مری روح کا زخم
آپ کیا سوچ سکیں گے مری تنہائی کو
میں تو دم توڑ رہا تھا مگر افسردہ حیات
غزل

میں دل پہ جبر کروں گا تجھے بھلا دوں گا

میں دل پہ جبر کروں گا تجھے بھلا دوں گا
مروں گا خود بھی تجھے بھی کڑی سزا دوں گا
یہ تیرگی مرے گھر کا ہی کیوں مقدر ہو
غزل

یہ کہہ گئے ہیں مسافر لٹے گھروں والے

یہ کہہ گئے ہیں مسافر لٹے گھروں والے
ڈریں ہوا سے پرندے کھلے پروں والے
یہ میرے دل کی ہوس دشت بے کراں جیسی