Wednesday, October 28, 2026
FB
غزل

آپ کی آنکھ سے گہرا ہے مری روح کا زخم

آپ کی آنکھ سے گہرا ہے مری روح کا زخم
آپ کیا سوچ سکیں گے مری تنہائی کو
میں تو دم توڑ رہا تھا مگر افسردہ حیات
خود چلی آئی مری حوصلہ افزائی کو
لذت غم کے سوا تیری نگاہوں کے بغیر
کون سمجھا ہے مرے زخم کی گہرائی کو
میں بڑھاؤں گا تری شہرت خوشبو کا نکھار
تو دعا دے مرے افسانۂ رسوائی کو
وہ تو یوں کہیے کہ اک قوس قزح پھیل گئی
ورنہ میں بھول گیا تھا تری انگڑائی کو
28 ویوز 12 Sep 2026 غزل