آپ کی آنکھ سے گہرا ہے مری روح کا زخم
آپ کیا سوچ سکیں گے مری تنہائی کو
میں تو دم توڑ رہا تھا مگر افسردہ حیات
خود چلی آئی مری حوصلہ افزائی کو
لذت غم کے سوا تیری نگاہوں کے بغیر
کون سمجھا ہے مرے زخم کی گہرائی کو
میں بڑھاؤں گا تری شہرت خوشبو کا نکھار
تو دعا دے مرے افسانۂ رسوائی کو
وہ تو یوں کہیے کہ اک قوس قزح پھیل گئی
ورنہ میں بھول گیا تھا تری انگڑائی کو
محسن نقوی کی مزید شاعری
غزل
سانسوں کے اس ہنر کو نہ آساں خیال کر
سانسوں کے اس ہنر کو نہ آساں خیال کر
زندہ ہوں ساعتوں کو میں صدیوں میں ڈھال کر
مالی نے آج کتنی دعائیں وصول کیں
شعر
زندہ ہوں ساعتوں کو میں صدیوں میں ڈھال کر
مالی نے آج کتنی دعائیں وصول کیں
یہ کس نے ہم سے لہو کا خراج پھر مانگا
یہ کس نے ہم سے لہو کا خراج پھر مانگا
ابھی تو سوئے تھے مقتل کو سرخ رو کر کے
شعر
ابھی تو سوئے تھے مقتل کو سرخ رو کر کے
زباں رکھتا ہوں لیکن چپ کھڑا ہوں
زباں رکھتا ہوں لیکن چپ کھڑا ہوں
میں آوازوں کے بن میں گھر گیا ہوں
غزل
میں آوازوں کے بن میں گھر گیا ہوں
ہوائے ہجر میں جو کچھ تھا اب کے خاک ہوا
ہوائے ہجر میں جو کچھ تھا اب کے خاک ہوا
کہ پیرہن تو گیا تھا بدن بھی چاک ہوا
اب اس سے ترک تعلق کروں تو مر جاؤں
نظم
کہ پیرہن تو گیا تھا بدن بھی چاک ہوا
اب اس سے ترک تعلق کروں تو مر جاؤں
دل دکھتا ہے
دل دکھتا ہے
آباد گھروں سے دور کہیں
جب بنجر بن میں آگ جلے
نظم
آباد گھروں سے دور کہیں
جب بنجر بن میں آگ جلے
تمہیں کیا
تمہیں کیا
زندگی جیسی بھی ہے
تم نے اس کے ہر ادا سے رنگ کی موجیں نچوڑی ہیں
زندگی جیسی بھی ہے
تم نے اس کے ہر ادا سے رنگ کی موجیں نچوڑی ہیں