آج تنہائی نے تھوڑا سا دلاسہ جو دیا
کتنے روٹھے ہوئے ساتھی مجھے یاد آئے ہیں
موسم وصل کی کرنوں کا وہ انبوہ رواں
جس کے ہم راہ کسی زہرہ جبیں کی ڈولی
ایسے اتری تھی کہ جیسے کوئی آیت اترے
ہجر کی شام کے بکھرے ہوئے کاجل کی لکیر
جس نے آنکھوں کے گلابوں پہ شفق چھڑکی تھی
جیسے خوشبو کسی جنگل میں برہنہ ٹھہرے
خلقت شہر کی جانب سے ملامت کا عذاب
جس نے اکثر مجھے ہونے کا یقیں بخشا تھا
دست اعدائیں وہ کھنچتی ہوئی تہمت کی کماں
بارش سنگ میں کھلتی ہوئی تیروں کی دکاں
مہرباں دوست رفاقت کا بھرم رکھتے ہوئے
اجنبی لوگ دل و جاں میں قدم رکھتے ہوئے
آج تنہائی نے تھوڑا سا دلاسہ جو دیا
کتنے روٹھے ہوئے ساتھی مجھے یاد آئے ہیں
اب نہ پندار وفا ہے نہ محبت کی جزا
دست اعداء کی کشش ہے نہ رفیقوں کی سزا
تختۂ دار نہ منصب نہ عدالت کی خلش
اب تو اک چیخ سی ہونٹوں میں دبی رہتی ہے
راس آئے گا کسے دشت بلا میرے بعد
کون مانگے گا اجڑنے کی دعا میرے بعد
آج تنہائی نے تھوڑا سا دلاسہ جو دیا
محسن نقوی کی مزید شاعری
شعر
کاش کوئی ہم سے بھی پوچھے
کاش کوئی ہم سے بھی پوچھے
رات گئے تک کیوں جاگے ہو
غزل
رات گئے تک کیوں جاگے ہو
بھڑکائیں مری پیاس کو اکثر تری آنکھیں
بھڑکائیں مری پیاس کو اکثر تری آنکھیں
صحرا مرا چہرا ہے سمندر تری آنکھیں
پھر کون بھلا داد تبسم انہیں دے گا
شعر
صحرا مرا چہرا ہے سمندر تری آنکھیں
پھر کون بھلا داد تبسم انہیں دے گا
گہری خموش جھیل کے پانی کو یوں نہ چھیڑ
گہری خموش جھیل کے پانی کو یوں نہ چھیڑ
چھینٹے اڑے تو تیری قبا پر بھی آئیں گے
شعر
چھینٹے اڑے تو تیری قبا پر بھی آئیں گے
ازل سے قائم ہیں دونوں اپنی ضدوں پہ محسنؔ
ازل سے قائم ہیں دونوں اپنی ضدوں پہ محسنؔ
چلے گا پانی مگر کنارہ نہیں چلے گا
غزل
چلے گا پانی مگر کنارہ نہیں چلے گا
ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھی
ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھی
میری طرح کسی سے محبت اسے بھی تھی
مجھ کو بھی شوق تھا نئے چہروں کی دید کا
نظم
میری طرح کسی سے محبت اسے بھی تھی
مجھ کو بھی شوق تھا نئے چہروں کی دید کا
دل دکھتا ہے
دل دکھتا ہے
آباد گھروں سے دور کہیں
جب بنجر بن میں آگ جلے
آباد گھروں سے دور کہیں
جب بنجر بن میں آگ جلے