Monday, October 26, 2026
FB
نظم

آج تنہائی نے تھوڑا سا دلاسہ جو دیا

آج تنہائی نے تھوڑا سا دلاسہ جو دیا
کتنے روٹھے ہوئے ساتھی مجھے یاد آئے ہیں
موسم وصل کی کرنوں کا وہ انبوہ رواں
جس کے ہم راہ کسی زہرہ جبیں کی ڈولی
ایسے اتری تھی کہ جیسے کوئی آیت اترے
ہجر کی شام کے بکھرے ہوئے کاجل کی لکیر
جس نے آنکھوں کے گلابوں پہ شفق چھڑکی تھی
جیسے خوشبو کسی جنگل میں برہنہ ٹھہرے
خلقت شہر کی جانب سے ملامت کا عذاب
جس نے اکثر مجھے ہونے کا یقیں بخشا تھا
دست اعدائیں وہ کھنچتی ہوئی تہمت کی کماں
بارش سنگ میں کھلتی ہوئی تیروں کی دکاں
مہرباں دوست رفاقت کا بھرم رکھتے ہوئے
اجنبی لوگ دل و جاں میں قدم رکھتے ہوئے
آج تنہائی نے تھوڑا سا دلاسہ جو دیا
کتنے روٹھے ہوئے ساتھی مجھے یاد آئے ہیں
اب نہ پندار وفا ہے نہ محبت کی جزا
دست اعداء کی کشش ہے نہ رفیقوں کی سزا
تختۂ دار نہ منصب نہ عدالت کی خلش
اب تو اک چیخ سی ہونٹوں میں دبی رہتی ہے
راس آئے گا کسے دشت بلا میرے بعد
کون مانگے گا اجڑنے کی دعا میرے بعد
آج تنہائی نے تھوڑا سا دلاسہ جو دیا
27 ویوز 12 Sep 2026 نظم