Tuesday, October 27, 2026
FB
نظم

آج تنہائی نے تھوڑا سا دلاسہ جو دیا

محسن نقوی
28 Views Sep 12, 2026 0 min read
آج تنہائی نے تھوڑا سا دلاسہ جو دیا کتنے روٹھے ہوئے ساتھی مجھے یاد آئے ہیں موسم وصل کی کرنوں کا وہ انبوہ رواں جس کے ہم راہ کسی زہرہ جبیں کی ڈولی ایسے اتری تھی کہ جیسے کوئی آیت اترے ہجر کی شام کے بکھرے ہوئے کاجل کی لکیر جس نے آنکھوں کے گلابوں پہ شفق چھڑکی تھی جیسے خوشبو کسی جنگل میں برہنہ ٹھہرے خلقت شہر کی جانب سے ملامت کا عذاب جس نے اکثر مجھے ہونے کا یقیں بخشا تھا دست اعدائیں وہ کھنچتی ہوئی تہمت کی کماں بارش سنگ میں کھلتی ہوئی تیروں کی دکاں مہرباں دوست رفاقت کا بھرم رکھتے ہوئے اجنبی لوگ دل و جاں میں قدم رکھتے ہوئے آج تنہائی نے تھوڑا سا دلاسہ جو دیا کتنے روٹھے ہوئے ساتھی مجھے یاد آئے ہیں اب نہ پندار وفا ہے نہ محبت کی جزا دست اعداء کی کشش ہے نہ رفیقوں کی سزا تختۂ دار نہ منصب نہ عدالت کی خلش اب تو اک چیخ سی ہونٹوں میں دبی رہتی ہے راس آئے گا کسے دشت بلا میرے بعد کون مانگے گا اجڑنے کی دعا میرے بعد آج تنہائی نے تھوڑا سا دلاسہ جو دیا
Copied!