Wednesday, October 28, 2026
FB
غزل

آپ کی آنکھ سے گہرا ہے مری روح کا زخم

محسن نقوی
29 Views Sep 12, 2026 0 min read
آپ کی آنکھ سے گہرا ہے مری روح کا زخم آپ کیا سوچ سکیں گے مری تنہائی کو میں تو دم توڑ رہا تھا مگر افسردہ حیات خود چلی آئی مری حوصلہ افزائی کو لذت غم کے سوا تیری نگاہوں کے بغیر کون سمجھا ہے مرے زخم کی گہرائی کو میں بڑھاؤں گا تری شہرت خوشبو کا نکھار تو دعا دے مرے افسانۂ رسوائی کو وہ تو یوں کہیے کہ اک قوس قزح پھیل گئی ورنہ میں بھول گیا تھا تری انگڑائی کو
Copied!