Tuesday, October 27, 2026
FB
غزل

عذاب دید میں آنکھیں لہو لہو کر کے

محسن نقوی
27 Views Sep 12, 2026 0 min read
عذاب دید میں آنکھیں لہو لہو کر کے میں شرمسار ہوا تیری جستجو کر کے کھنڈر کی تہ سے بریدہ بدن سروں کے سوا ملا نہ کچھ بھی خزانوں کی آرزو کر کے سنا ہے شہر میں زخمی دلوں کا میلہ ہے چلیں گے ہم بھی مگر پیرہن رفو کر کے مسافت شب ہجراں کے بعد بھید کھلا ہوا دکھی ہے چراغوں کی آبرو کر کے زمیں کی پیاس اسی کے لہو کو چاٹ گئی وہ خوش ہوا تھا سمندر کو آب جو کر کے یہ کس نے ہم سے لہو کا خراج پھر مانگا ابھی تو سوئے تھے مقتل کو سرخ رو کر کے جلوس اہل وفا کس کے در پہ پہنچا ہے نشان‌ طوق وفا زینت گلو کر کے اجاڑ رت کو گلابی بنائے رکھتی ہے ہماری آنکھ تری دید سے وضو کر کے کوئی تو حبس ہوا سے یہ پوچھتا محسنؔ ملا ہے کیا اسے کلیوں کو بے نمو کر کے
Copied!