Wednesday, October 28, 2026
FB
نظم

بہت دنوں بعد

محسن نقوی
32 Views Sep 12, 2026 0 min read
بہت دنوں بعد تیرے خط کے اداس لفظوں نے تیری چاہت کے ذائقوں کی تمام خوشبو مری رگوں میں انڈیل دی ہے بہت دنوں بعد تیری باتیں تری ملاقات کی دھنک سے دہکتی راتیں اجاڑ آنکھوں کے پیاس پاتال کی تہوں میں وصال‌ وعدوں کی چند چنگاریوں کو سانسوں کی آنچ دے کر شریر شعلوں کی سرکشی کے تمام تیور سکھا گئی ہیں ترے مہکتے مہین لفظوں کی آبشاریں بہت دنوں بعد پھر سے مجھ کو رلا گئی ہیں بہت دنوں بعد میں نے سوچا تو یاد آیا کہ میرے اندر کی راکھ کے ڈھیر پر ابھی تک ترے زمانے لکھے ہوئے ہیں سبھی فسانے لکھے ہوئے ہیں بہت دنوں بعد میں نے سوچا تو یاد آیا کہ تیری یادوں کی کرچیاں مجھ سے کھو گئی ہیں ترے بدن کی تمام خوشبو بکھر گئی ہے ترے زمانے کی چاہتیں سب نشانیاں سب شرارتیں سب حکایتیں سب شکایتیں جو کبھی ہنر میں خیال تھیں خواب ہو گئی ہیں بہت دنوں بعد میں نے سوچا تو یاد آیا کہ میں بھی کتنا بدل گیا ہوں بچھڑ کے تجھ سے کئی لکیروں میں ڈھل گیا ہوں میں اپنے سگریٹ کے بے ارادہ دھوئیں کی صورت ہوا میں تحلیل ہو گیا ہوں نہ ڈھونڈھ میری وفا کے نقش قدم کے ریزے کہ میں تو تیری تلاش کے بے کنار صحرا میں وہم کے بے اماں بگولوں کے وار سہہ کر اداس رہ کر نہ جانے کس رہ میں کھو گیا ہوں بچھڑ کے تجھ سے تری طرح کیا بتاؤں میں بھی نہ جانے کس کس کا ہو گیا ہوں بہت دنوں بعد میں نے سوچا تو یاد آیا
Copied!