Tuesday, October 27, 2026
FB
غزل

خمار موسم خوشبو حد چمن میں کھلا

محسن نقوی
26 Views Sep 12, 2026 0 min read
خمار موسم خوشبو حد چمن میں کھلا مری غزل کا خزانہ ترے بدن میں کھلا تم اس کا حسن کبھی اس کی بزم میں دیکھو کہ ماہتاب سدا شب کے پیرہن میں کھلا عجب نشہ تھا مگر اس کی بخشش لب میں کہ یوں تو ہم سے بھی کیا کیا نہ وہ سخن میں کھلا نہ پوچھ پہلی ملاقات میں مزاج اس کا وہ رنگ رنگ میں سمٹا کرن کرن میں کھلا بدن کی چاپ نگہ کی زباں بھی ہوتی ہے یہ بھید ہم پہ مگر اس کی انجمن میں کھلا کہ جیسے ابر ہوا کی گرہ سے کھل جائے سفر کی شام مرا مہرباں تھکن میں کھلا کہوں میں کس سے نشانی تھی کس مسیحا کی وہ ایک زخم کہ محسنؔ مرے کفن میں کھلا
Copied!