Tuesday, October 27, 2026
FB
نظم

ہوا

محسن نقوی
28 Views Sep 12, 2026 0 min read
ہوا صبح دم اس کی آہستہ آہستہ کھلتی ہوئی آنکھ سے خواب کی سیپیاں چننے جائے تو کہنا کہ ہم جاگتے ہیں ہوا اس سے کہنا کہ جو ہجر کی آگ پیتی رتوں کی طنابیں رگوں سے الجھتی ہوئی سانس کے ساتھ کس دیں انہیں رات کے سرمئی ہاتھ خیرات میں نیند کب دے سکے ہیں ہوا اس کے بازو پہ لکھا ہوا کوئی تعویذ باندھے تو کہنا کہ آوارگی اوڑھ کر سانس لیتے مسافر تجھے کھوجتے کھوجتے تھک گئے ہیں ہوا اس سے کہنا کہ ہم نے تجھے کھوجنے کی سبھی خواہشوں کو اداسی کی دیوار میں چن دیا ہے ہوا اس سے کہنا کہ وحشی درندوں کی بستی کو جاتے ہوئے راستوں پر ترے نقش پا دیکھ کر ہم نے دل میں ترے نام کے ہر طرف اک سیہ ماتمی حاشیہ بن دیا ہے ہوا اس سے کہنا ہوا کچھ نہ کہنا ہوا کچھ نہ کہنا
Copied!