Tuesday, October 27, 2026
FB
غزل

خود اپنے دل میں خراشیں اتارنا ہوں گی

محسن نقوی
35 Views Sep 12, 2026 0 min read
خود اپنے دل میں خراشیں اتارنا ہوں گی ابھی تو جاگ کے راتیں گزارنا ہوں گی ترے لیے مجھے ہنس ہنس کے بولنا ہوگا مرے لیے تجھے زلفیں سنوارنا ہوں گی تری صدا سے تجھی کو تراشنا ہوگا ہوا کی چاپ سے شکلیں ابھارنا ہوں گی ابھی تو تیری طبیعت کو جیتنے کے لیے دل و نگاہ کی شرطیں بھی ہارنا ہوں گی ترے وصال کی خواہش کے تیز رنگوں سے ترے فراق کی صبحیں نکھارنا ہوں گی یہ شاعری یہ کتابیں یہ آیتیں دل کی نشانیاں یہ سبھی تجھ پہ وارنا ہوں گی
Copied!