Tuesday, October 27, 2026
FB
غزل

ہم جو پہنچے سر مقتل تو یہ منظر دیکھا

محسن نقوی
26 Views Sep 12, 2026 0 min read
ہم جو پہنچے سر مقتل تو یہ منظر دیکھا سب سے اونچا تھا جو سر نوک سناں پر دیکھا ہم سے مت پوچھ کہ کب چاند ابھرتا ہے یہاں ہم نے سورج بھی ترے شہر میں آ کر دیکھا ایسے لپٹے ہیں در و بام سے اب کے جیسے حادثوں نے بڑی مدت میں مرا گھر دیکھا اب یہ سوچا ہے کہ اوروں کا کہا مانیں گے اپنی آنکھوں پہ بھروسا تو بہت کر دیکھا ایک اک پل میں اترتا رہا صدیوں کا عذاب ہجر کی رات گزاری ہے کہ محشر دیکھا مجھ سے مت پوچھ مری تشنہ لبی کے تیور ریت چمکی تو یہ سمجھو کہ سمندر دیکھا دکھ ہی ایسا تھا کہ محسنؔ ہوا گم سم ورنہ غم چھپا کر اسے ہنستے ہوئے اکثر دیکھا
Copied!