Wednesday, October 28, 2026
FB
نظم

اس سمت نہ جانا جان مری

محسن نقوی
26 Views Sep 12, 2026 0 min read
اس سمت نہ جانا جان مری اس سمت کی ساری روشنیاں آنکھوں کو بجھا کر جلتی ہیں اس سمت کی اجلی مٹی میں ناگن آشائیں پلتی ہیں اس سمت کی صبحیں شام تلک ہونٹوں سے زہر اگلتی ہیں اس سمت نہ جانا جان مری اس سمت کے آنگن مقتل ہیں اس سمت دہکتی گلیوں میں زہریلی باس کا جادو ہے اس سمت مہکتی کلیوں میں کافور کی قاتل خوشبو ہے اس سمت کی ہر دہلیز تلے شمشان ہے جلتے جسموں کا اس سمت فضا پر سایہ ہے بے معنی مبہم اسموں کا اس سمت نہ جانا جان مری اس سمت کی ساری پھلجھڑیاں بارود کی تال میں ڈھلتی ہیں اس سمت کے پتھر رستوں میں منہ زور ہوائیں چلتی ہیں اس سمت کی ساری روشنیاں آنکھوں کو بجھا کر جلتی ہیں اس سمت کے وہموں میں گھر کر کھو بیٹھو گی پہچان مری اس سمت نہ جانا جان مری
Copied!