Monday, October 26, 2026
FB
نظم

تمہیں کیا

محسن نقوی
34 Views Sep 12, 2026 0 min read
تمہیں کیا زندگی جیسی بھی ہے تم نے اس کے ہر ادا سے رنگ کی موجیں نچوڑی ہیں تمہیں تو ٹوٹ کر چاہا گیا چہروں کے میلے میں محبت کی شفق برسی تمہارے خال و خد پر آئنے چمکے تمہاری دید سے خوشبو تمہارے پیرہن کی ہر شکن سے اذن لے کر ہر طرف وحشت لٹاتی تھی تمہارے چاہنے والوں کے جھرمٹ میں سبھی آنکھیں تمہارے عارض و لب کی کنیزیں تھیں تمہیں کیا تم نے ہر موسم کی شہ رگ میں انڈیلے ذائقے اپنے تمہیں کیا تم نے کب سوچا کہ چہروں سے اٹی دنیا میں تنہا سانس لیتی ہانپتی راتوں کے بے گھر ہم سفر کتنی مشقت سے گریبان سحر کے چاک سیتے ہیں تمہیں کیا تم نے کب سوچا کہ تنہائی کے جنگل میں سیہ لمحوں کی چبھتی کرچیوں سے کون کھیلا ہے تمہیں کیا تم نے کب سوچا کہ چہروں سے اٹی دنیا میں کس کا دل اکیلا ہے
Copied!