Tuesday, October 27, 2026
FB
نظم

مرا ہونا نہ ہونا منحصر ہے

محسن نقوی
27 Views Sep 12, 2026 0 min read
مرا ہونا نہ ہونا منحصر ہے ایک نقطے پر وہ اک نقطہ جو دو حرفوں کو آپس میں ملا کر لفظ کی تشکیل کرتا ہے وہ اک نقطہ سمٹ جائے تو ہونے کا ہر اک امکاں نہ ہونے تک کا سارا فاصلہ پل بھر میں طے کر لے وہی نقطہ بکھر جائے تو ہر اک شے نہ ہونے کے قفس کی تیلیوں کو توڑ کر رکھ دے وہ ایک نقطہ مری آنکھوں میں اکثر روشنی کے ساتھ رنگوں کو اگاتا ہے مرے ادراک میں شبنم کی صورت یا ستارے کی طرح لوح یقیں پر جگمگاتا ہے وہی نقطہ مجھے تشکیک کے جنگل میں جگنو بن کے منزل کی طرف رستہ دکھاتا ہے مجھے اکثر بتاتا ہے مرا ہونا نہ ہونے کا عمل سے مرے ہونے کی بھی تکمیل ہوتی ہے وہ اک نقطہ کہاں ہے کون ہے کس کے لبوں میں چھپ کے ہر اثبات کو انکار میں تبدیل کرتا ہے جو دو حرفوں کو آپس میں ملا کر لفظ کی تشکیل کرتا ہے یہ نکتہ بھی اسی نقطے میں مضمر ہے وہ ایک نقطہ کہ اب تک جس کے ہونے کا امیں ہوں میں وہ افشا ہو تو میں سمجھوں کہ ہوں بھی یا نہیں ہوں میں
Copied!