Tuesday, October 27, 2026
FB
غزل

سانسوں کے اس ہنر کو نہ آساں خیال کر

محسن نقوی
25 Views Sep 12, 2026 0 min read
سانسوں کے اس ہنر کو نہ آساں خیال کر زندہ ہوں ساعتوں کو میں صدیوں میں ڈھال کر مالی نے آج کتنی دعائیں وصول کیں کچھ پھول اک فقیر کی جھولی میں ڈال کر کل یوم ہجر زرد زمانوں کا یوم ہے شب بھر نہ جاگ مفت میں آنکھیں نہ لال کر اے گرد باد لوٹ کے آنا ہے پھر مجھے رکھنا مرے سفر کی اذیت سنبھال کر محراب میں دیے کی طرح زندگی گزار منہ زور آندھیوں میں نہ خود کو نڈھال کر شاید کسی نے بخل زمیں پر کیا ہے طنز گہرے سمندروں سے جزیرے نکال کر یہ نقد جاں کہ اس کا لٹانا تو سہل ہے گر بن پڑے تو اس سے بھی مشکل سوال کر محسنؔ برہنہ سر چلی آئی ہے شام غم غربت نہ دیکھ اس پہ ستاروں کی شال کر
Copied!