Wednesday, October 28, 2026
FB
غزل

نیا ہے شہر نئے آسرے تلاش کروں

محسن نقوی
27 Views Sep 12, 2026 0 min read
نیا ہے شہر نئے آسرے تلاش کروں تو کھو گیا ہے کہاں اب تجھے تلاش کروں جو دشت میں بھی جلاتے تھے فصل گل کے چراغ میں شہر میں بھی وہی آبلے تلاش کروں تو عکس ہے تو کبھی میری چشم تر میں اتر ترے لیے میں کہاں آئنے تلاش کروں تجھے حواس کی آوارگی کا علم کہاں کبھی میں تجھ کو ترے سامنے تلاش کروں غزل کہوں کبھی سادہ سے خط لکھوں اس کو اداس دل کے لیے مشغلے تلاش کروں مرے وجود سے شاید ملے سراغ ترا کبھی میں خود کو ترے واسطے تلاش کروں میں چپ رہوں کبھی بے وجہ ہنس پڑوں محسنؔ اسے گنوا کے عجب حوصلے تلاش کروں
Copied!