Wednesday, October 28, 2026
FB
غزل

معرکہ اب کے ہوا بھی تو پھر ایسا ہوگا

محسن نقوی
27 Views Sep 12, 2026 0 min read
معرکہ اب کے ہوا بھی تو پھر ایسا ہوگا تیرے دریا پہ مری پیاس کا پہرہ ہوگا اس کی آنکھیں ترے چہرے پہ بہت بولتی ہیں اس نے پلکوں سے ترا جسم تراشا ہوگا کتنے جگنو اسی خواہش میں مرے ساتھ چلے کوئی رستہ ترے گھر کو بھی تو جاتا ہوگا میں بھی اپنے کو بھلائے ہوئے پھرتا ہوں بہت آئنہ اس نے بھی کچھ روز نہ دیکھا ہوگا رات جل تھل مری آنکھوں میں اتر آیا تھا صورت ابر کوئی ٹوٹ کے برسا ہوگا یہ مسیحائی اسے بھول گئی ہے محسنؔ یا پھر ایسا ہے مرا زخم ہی گہرا ہوگا
Copied!